اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں تمام تر سامان اور امدادی اشیاء کے داخلے کو روکنے کا اعلان کیا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اس فیصلے کی تفصیلات نہیں بتائیں، مگر خبردار کیا ہے کہ اگر حماس نے جنگ بندی میں توسیع کی امریکی تجویز کو قبول نہ کیا تو اسے مزید سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
تاہم، یہ واضح نہیں کہ امداد کی ترسیل مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے یا کچھ حد تک جاری رہے گی۔
اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون ساعر نے غزہ میں ممکنہ قحط کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ جنگ کے دوران اس حوالے سے جھوٹ بولا گیا۔
یروشلم میں ایک پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ قحط سے متعلق تمام دعوے بے بنیاد ہیں اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
دوسری جانب، حماس نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ جنگ بندی کو کمزور کرنے کے لیے امداد کی بندش جیسے اقدامات کر رہا ہے۔
گروہ نے اسرائیلی فیصلے کو ایک قسم کی بلیک میلنگ، جنگی جرم اور جنگ بندی کے معاہدے پر براہ راست حملہ قرار دیا ہے۔
اسرائیل اور حماس کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی کا پہلا مرحلہ سنیچر کو اختتام پذیر ہو گیا، جس میں انسانی امداد کی ترسیل میں اضافہ بھی شامل تھا۔
تاہم، دونوں فریق اب تک دوسرے مرحلے پر کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔
اس مرحلے میں حماس کو یرغمالیوں کی باقی ماندہ تعداد کو اسرائیلی افواج کے انخلا اور مستقل جنگ بندی کے بدلے میں رہا کرنا تھا۔
اتوار کے روز، اسرائیل نے اعلان کیا کہ وہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے کو رمضان اور یہودی تہوار پاس اوور کے اختتام یا 20 اپریل تک بڑھانے کی تجویز کی حمایت کرتا ہے۔
اس تجویز کا پس منظر یہ ہے کہ اسے امریکی سفارت کار سٹیو وٹ کوف نے پیش کیا ہے، جو مشرق وسطیٰ کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے خصوصی ایلچی رہ چکے ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کے مطابق، اس منصوبے کے تحت حماس کو پہلے مرحلے میں آدھے یرغمالیوں کو رہا کرنا ہوگا، جبکہ باقی یرغمالیوں کو مستقل جنگ بندی پر اتفاق ہونے کے بعد آزاد کیا جائے گا۔ حماس نے اس تجویز پر تاحال کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔