عرب سربراہی اجلاس مصر کی میزبانی میں منعقد ہو رہا ہے، تاکہ غزہ کی صورتحال پر ایک متفقہ ردعمل تیار کیا جا سکے۔
اس اجلاس کا مقصد فلسطینی حقوق کا تحفظ کرنا اور غزہ کی بحالی کو یقینی بنانا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ تجاویز کا مقابلہ بھی کرنا ہے۔
ٹرمپ نے غزہ پر کنٹرول حاصل کرنے اور فلسطینیوں کو مصر اور اردن میں دوبارہ بسانے کی تجویز دی تھی، جسے عرب ممالک نے مسترد کر دیا ہے۔
اس کے علاوہ، یہ اجلاس اسرائیلی وزیر اعظم کے جنگ بندی ختم کرنے اور غزہ میں دوبارہ حملے شروع کرنے کے فیصلے سے متعلق بھی غور کرے گا۔
سربراہی اجلاس سے قبل ٹیلی ویژن پر پڑھے گئے ایک مسودہ اعلامیے میں انکشاف کیا گیا کہ شرکاء نے غزہ کی تعمیر نو کے لیے ایک مصری منصوبے کی منظوری دی ہے۔
یہ منصوبہ تین مراحل پر مشتمل ہے، جو پانچ سال میں مکمل ہوگا اور اس پر تقریباً 53 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔
پہلے مرحلے کی مدت دو سال ہوگی اور اس پر 20 ارب ڈالر خرچ ہوں گے، جس میں ابتدائی بحالی کے اقدامات، ملبہ ہٹانے اور 200,000 رہائشی یونٹس کی تعمیر شامل ہے۔
پہلے چھ ماہ میں عارضی رہائش فراہم کی جائے گی۔ دوسرا مرحلہ ڈھائی سال پر محیط ہوگا، جس میں مزید 200,000 رہائشی یونٹس اور ایک ایئرپورٹ کی تعمیر شامل ہوگی۔
مکمل تعمیر نو کا عمل پانچ سال میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔
اس منصوبے کے تحت، ایک گورننس اسسٹنس مشن عارضی طور پر حماس سے انتظامی کنٹرول سنبھالے گا تاکہ انسانی امداد اور تعمیر نو کے کاموں کی نگرانی کی جا سکے۔
دریں اثنا، مصر اور اردن فلسطینی پولیس افسران کو تربیت دیں گے تاکہ انہیں غزہ میں تعینات کیا جا سکے۔
اس منصوبے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع، زمینوں کے انضمام، اور فلسطینی گھروں کی مسماری کو روکنے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔
مزید برآں، یہ منصوبہ مسلح گروہوں کے مسئلے کو ایک واضح سیاسی فریم ورک کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرے گا۔
اس منصوبے کے حوالے سے ایک بڑا چیلنج اس کی مالی اعانت ہے، کیونکہ اقوام متحدہ نے غزہ کی تعمیر نو کے اخراجات 50 ارب ڈالر سے زائد ہونے کا تخمینہ لگایا ہے۔
تاہم، سربراہی اجلاس کے مسودہ اعلامیے میں غزہ کی تعمیر نو کے لیے ایک بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد کی تجویز دی گئی ہے، جو اس ماہ قاہرہ میں منعقد ہوگی۔
سعودی وفد کی قیادت وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبداللہ کر رہے ہیں۔
شرکاء نے بین الاقوامی برادری اور مالیاتی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ اس منصوبے کی جلد از جلد حمایت کریں تاکہ غزہ کی تعمیر نو ممکن ہو اور وہاں کے باشندوں کے حالات بہتر بنائے جا سکیں۔