یروشلم کی تاریخی مسجد الاقصیٰ میں رمضان المبارک کی چوتھی رات کو تقریباً 80 ہزار فلسطینی نمازیوں نے تراویح ادا کی، حالانکہ اسرائیلی حکومت نے سخت سیکیورٹی پابندیاں نافذ کر رکھی ہیں۔
یروشلم کے محکمہ اوقاف اور مسجد الاقصیٰ انتظامیہ کے مطابق، ان 80 ہزار نمازیوں میں بڑی تعداد یروشلم کے مقامی رہائشیوں اور ان فلسطینیوں کی تھی جو 1948 سے اسرائیلی شہریت رکھتے ہیں۔
اس کے باوجود مغربی کنارے سے آنے والے ہزاروں فلسطینیوں کو اسرائیلی چیک پوسٹوں پر روک دیا گیا، اور انہیں مسجد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔
اسرائیلی سختیوں میں مزید اضافہ
رمضان کے آغاز سے ہی اسرائیلی حکام نے مسجد الاقصیٰ کے حوالے سے نئی سخت پابندیاں متعارف کروا دی ہیں، جن کے تحت فلسطینیوں کی نقل و حرکت کو محدود کیا جا رہا ہے۔
فلسطین نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، پیر کے روز اسرائیلی ملٹری پولیس نے مسجد الاقصیٰ کے کمپاؤنڈ پر چھاپہ مار کر تین افراد کو حراست میں لے لیا۔
اس کارروائی کے دوران متعدد فلسطینیوں کو زدوکوب بھی کیا گیا، اور کئی کو مسجد کے قریب جانے سے روک دیا گیا۔
رمضان کے آغاز پر ہی اسرائیل نے مقبوضہ مشرقی یروشلم کے قلب میں موجود قدیمی شہر میں اضافی فوجی تعینات کر دیے ہیں۔
اسرائیلی سیکیورٹی فورسز نے جگہ جگہ ناکے لگا رکھے ہیں تاکہ فلسطینیوں کی نقل و حرکت پر سخت نظر رکھی جا سکے۔
اس تمام صورتحال کے باوجود فلسطینی عوام کی بڑی تعداد رمضان کے مقدس مہینے میں مسجد الاقصیٰ میں عبادات کے لیے پہنچ رہی ہے، جو ان کے مضبوط عزم اور اپنے مقدس مقامات سے غیر متزلزل وابستگی کو ظاہر کرتی ہے۔