سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے مصر میں ہونے والے غیر معمولی عرب سربراہی اجلاس میں سعودی وفد کی قیادت کی۔
جہاں انہوں نے ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی نمائندگی کی۔
اپنی تقریر میں، انہوں نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے تمام شریک رہنماؤں کو نیک تمنائیں پہنچائیں۔
ساتھ ہی انہوں نے مصری صدر عبدالفتاح السیسی کا اجلاس کی میزبانی پر شکریہ ادا کیا اور بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسی آل خلیفہ کی عرب لیگ کونسل کی صدارت کے دوران ان کی کوششوں کو سراہا۔
شہزادہ فیصل نے سعودی عرب کے فلسطینی عوام کے ساتھ غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ فلسطینی حقوق کی کسی بھی خلاف ورزی کو قبول نہیں کیا جا سکتا، خواہ وہ یہودی بستیوں کی توسیع، زمین پر قبضہ، یا جبری بے دخلی کی شکل میں ہو۔
انہوں نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا کہ مستقل امن کا واحد حل 1967 کی سرحدوں کے مطابق ایک خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ہے، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہوگا۔
غزہ میں جاری انسانی بحران پر گفتگو کرتے ہوئے، شہزادہ فیصل نے فلسطینی عوام کی بے مثال مشکلات کو اجاگر کیا اور عالمی برادری سے فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ حالات معمول پر آسکیں، غزہ کی تعمیر نو ہو، اور فلسطینی عوام کو ان کی سرزمین پر باوقار زندگی گزارنے کا حق ملے۔
انہوں نے مستقل جنگ بندی، مستقبل میں جارحیت کی روک تھام، اور فلسطین میں طویل المدتی امن کے قیام کے لیے بین الاقوامی ضمانتوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
اس کے علاوہ، انہوں نے فلسطینی اتھارٹی کو مضبوط کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی تاکہ وہ غزہ کا انتظام سنبھال سکے اور وہاں کے عوام کو ضروری انسانی امداد فراہم کر سکے۔
اپنی تقریر کے اختتام پر، شہزادہ فیصل نے امید ظاہر کی کہ یہ اجلاس عملی نتائج پیدا کرے گا جو جنگ کے تباہ کن اثرات کا خاتمہ، معصوم فلسطینی شہریوں کا تحفظ اور خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز کرے گا