غزہ کے شدید بیمار فلسطینی بچوں کا پہلا گروپ علاج کے لیے اردن پہنچ گیا ہے، جہاں انہیں ہنگامی طبی امداد فراہم کی جائے گی۔
یہ اقدام اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم کے خصوصی اعلان کے تحت عمل میں آیا ہے، جس کے مطابق دو ہزار بیمار فلسطینی بچوں کو علاج کے لیے اردن لایا جانا تھا۔
ان میں سے کئی بچے زندگی کے لیے خطرناک بیماریوں، خصوصاً کینسر میں مبتلا ہیں اور فوری طبی امداد کے محتاج ہیں۔
اردن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی پیٹرا کے مطابق، اس منصوبے کو اردنی مسلح افواج، عالمی ادارہ صحت (WHO) اور وزارت صحت کے تعاون سے عملی جامہ پہنایا گیا ہے۔
پہلے مرحلے میں 29 بچوں اور ان کے اہل خانہ کو اردن منتقل کیا گیا، جنہیں زمینی اور فضائی راستوں کے ذریعے لایا گیا۔
انتہائی تشویشناک حالت میں موجود چار بچوں کو رائل اردنی فضائیہ کے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اردن پہنچایا گیا، جبکہ باقی 25 بچوں کو ایمبولینسوں کے ذریعے کنگ حسین پل سے گزار کر اردنی اسپتالوں میں داخل کرایا گیا۔
ایک بار پہنچنے کے بعد، ان بچوں کو اردن کے مختلف اسپتالوں میں طبی علاج اور خصوصی نگہداشت فراہم کی جائے گی۔
اردنی فوج کے میڈیا ڈائریکٹر بریگیڈیئر جنرل مصطفی الحیاری نے کہا کہ یہ اقدام اردن کی فلسطینی عوام کے ساتھ مستقل حمایت کا مظہر ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ اردن فلسطینی بھائیوں کی مشکلات کے حل کے لیے ہمیشہ آگے بڑھ کر مدد فراہم کرتا ہے۔
دوسری جانب، متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان کے انسانی ہمدردی کے اقدام کے تحت بھی غزہ کے ایک ہزار زخمی بچوں اور ایک ہزار کینسر کے مریضوں کا امارات کے اسپتالوں میں علاج جاری ہے۔
یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ علاقائی رہنما فلسطینی عوام کی مشکلات کو کم کرنے اور ان کے بیمار بچوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں، تاکہ وہ جلد صحت یاب ہو سکیں اور ایک بہتر زندگی گزار سکیں۔