اسرائیلی حکومت نے اٹارنی جنرل گالی بہاراو میارا کو عہدے سے ہٹانے کے باضابطہ اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
گالی بہاراو میارا، جو وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو کی سخت ناقد سمجھی جاتی ہیں، کو حکومت کے ساتھ طویل اور سنگین اختلافات کی بنیاد پر برطرف کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ایک خط میں وزیرِ انصاف یاریو لیوین نے الزام عائد کیا کہ اٹارنی جنرل نے اپنے عہدے کی ذمہ داریوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا اور حکومتی امور کو معطل کرنے کی کوشش کی۔
ان کے مطابق، قانونی مشورہ قانون کی تشریح پر مبنی ہونا چاہیے، نہ کہ کسی خاص سیاسی مفاد کی ترجمانی کے لیے۔
لیوین نے کابینہ کے سیکرٹری کو عدم اعتماد کی تحریک بھی پیش کی ہے، جس کے بعد یہ معاملہ ممکنہ طور پر اسرائیل کی سپریم کورٹ تک پہنچ سکتا ہے۔
گالی بہاراو میارا اسرائیل میں عدلیہ کی آزادی کی پرزور حامی رہی ہیں اور اکثر نیتن یاہو حکومت کے فیصلوں سے اختلاف کرتی رہی ہیں۔
جب نیتن یاہو 2022 میں دوبارہ اقتدار میں آئے، تو بہاراو میارا نے خبردار کیا کہ ان کی حکومت کے بعض اقدامات اسرائیل کو صرف نام کی جمہوریت بنا سکتے ہیں۔
مارچ 2023 میں، جب نیتن یاہو نے عدالتی اصلاحات کا منصوبہ پیش کیا، تو بہاراو میارا نے ان پر غیر قانونی طریقے سے کام کرنے کا الزام لگایا تھا۔
غزہ جنگ کے آغاز کے بعد، اٹارنی جنرل نے اسرائیل میں لازمی فوجی سروس کے غیر مساوی نفاذ پر بھی اعتراض کیا تھا۔
جس میں قدامت پسند مذہبی یہودی مردوں (الٹرا آرتھوڈوکس) کو کئی سالوں سے استثنیٰ دیا جاتا رہا ہے۔
اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لاپید نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ حکومت نے انہیں صرف دو چیزیں کرنے کا کہا تھا کہ فوج میں بھرتی سے بچنے والوں کو شامل کریں اور الٹرا آرتھوڈوکس کمیونٹی کو خفیہ طور پر دی جانے والی غیر قانونی فنڈنگ بند کریں۔
یہ ہی وجہ ہے کہ وہ انہیں برطرف کرنا چاہتے ہیں۔
اس اقدام کو اسرائیل میں عدلیہ کی آزادی کے خلاف ایک اور بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اٹارنی جنرل کو برطرف کر دیا جاتا ہے تو یہ ایک بڑا عدالتی بحران پیدا کر سکتا ہے اور ممکنہ طور پر عدالتی فیصلوں میں حکومتی مداخلت کو تقویت دے گا۔
یہ معاملہ آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے اور اسرائیل میں پہلے سے موجود سیاسی کشیدگی میں اضافہ کر سکتا ہے۔