جعفر ایکسپریس بالآخر 16 دن کے وقفے کے بعد دوبارہ اپنی منزل کی طرف روانہ ہو چکی ہے۔
پشاور کینٹ ریلوے اسٹیشن سے روانہ ہونے والی یہ ٹرین جمعہ کی شام کوئٹہ پہنچے گی، جہاں اس کے استقبال کے لیے خاص انتظامات کیے گئے ہیں۔
آج صبح وفاقی وزیر امیر مقام نے جعفر ایکسپریس کی روانگی کا افتتاح کیا، اس موقع پر ریلوے اسٹیشن کو قومی پرچم، رنگین جھنڈیوں اور غباروں سے سجایا گیا تھا تاکہ عوام کو اس سہولت کی بحالی کا پیغام دیا جا سکے۔
اس ٹرین کے دوبارہ چلنے پر حکومت اور ریلوے حکام نے اطمینان کا اظہار کیا ہے، تاہم اب بھی عوام میں خوف کی فضا برقرار ہے اور مسافروں کی تعداد میں کمی دیکھی گئی ہے۔
ریلوے حکام کے مطابق اس سفر کے لیے 300 مسافروں نے ٹکٹ بک کروائے، تاہم پشاور سے روانگی کے وقت صرف 28 مسافر ٹرین میں سوار ہوئے۔
جعفر ایکسپریس تقریباً 34 گھنٹے کا سفر طے کر کے اپنی منزل پر پہنچے گی۔
یہ واحد ٹرین ہے جو پاکستان کے چاروں صوبوں سے گزرتی ہے، اور مختلف شہروں میں بسنے والے افراد کے لیے آمدورفت کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
پشاور سے روانہ ہونے کے بعد یہ پنجاب، سندھ اور پھر بلوچستان میں داخل ہو کر کوئٹہ پہنچے گی۔
ملک کے مختلف علاقوں کو ملانے والی اس ٹرین کو قومی یکجہتی کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہ مختلف خطوں کے عوام کو آپس میں جوڑنے کا ذریعہ بنتی ہے۔
بلوچستان کے ضلع کچھی میں بولان کے پہاڑی علاقے میں پیروکنری اور پنیر ریلوے اسٹیشن کے درمیان 11 مارچ کو جعفر ایکسپریس کو دہشت گردوں نے نشانہ بنایا تھا۔
حملے کے دوران شدت پسندوں نے ٹرین میں سوار 400 سے زائد مسافروں کو یرغمال بنا لیا تھا، جن میں سے 26 بے گناہ افراد کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا جبکہ باقی کو سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی کے بعد بحفاظت بازیاب کروا لیا گیا۔
اس حملے کے بعد فورسز نے دہشت گردوں کے خلاف ایک بڑا آپریشن کیا، جو 36 گھنٹے تک جاری رہا اور اس کے بعد قریبی پہاڑوں کی مکمل سکیورٹی کلیئرنس دی گئی۔
یہ حملہ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے کیا گیا تھا، جس نے اس کی ذمہ داری بھی قبول کی۔
یہ تنظیم اس سے قبل بھی مسافر ٹرینوں اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتی رہی ہے، تاہم اس بار دہشت گردوں نے براہ راست عام شہریوں کو بھی نشانہ بنایا، جس پر ملک بھر میں شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔
وفاقی وزیر امیر مقام نے ریلوے حکام کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ کسی بھی دہشت گردانہ کارروائی کو ملک کی ترقی اور عوام کی روزمرہ زندگی کو مفلوج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام کا بڑی تعداد میں ٹرین کے اسٹیشن پر موجود ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں امن و امان کی بحالی کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو مل کر کام کرنا ہوگا اور ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے سیاست سے بالاتر ہو کر اقدامات کرنے ہوں گے۔