پاکستان میں خریف سیزن کا آغاز ہوتے ہی ملک کو ایک نئے بحران کا سامنا ہے ، پانی کی شدید قلت ڈیم ویران، دریاؤں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک کم، اور پہاڑوں پر برف کے ذخائر ناکافی ہونے سے ماہرین نے الرٹ جاری کر دیا ہے۔ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کے مطابق، ملک کے تینوں بڑے ڈیموں میں پانی کی کمی کی وجہ سے آبپاشی کے نظام کو شدید دھچکا لگا ہے، جس سے چاول، کپاس، گنا اور مکئی جیسی اہم فصلیں بری طرح متاثر ہو سکتی ہیں۔
حالیہ اجلاس میں ارسا نے اپریل کے لیے صرف پینے کے پانی کی فراہمی کی منظوری دی ہے، جبکہ خریف سیزن (اپریل تا ستمبر) کے لیے پانی کی دستیابی میں 43 فیصد کمی کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ اگلے تین ماہ میں بارشوں کی کمی اور درجہ حرارت میں اضافے سے صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ سندھ اور پنجاب کے درمیان پانی کی تقسیم کو لے کر تنازعہ بھی بڑھ رہا ہے،جس سے کسانوں کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اگر فوری اقدامات نہ اٹھائے گئے تو پانی کی قلت نہ صرف فصلوں کی پیداوار کو متاثر کرے گی بلکہ ملک کی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچائے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ پانی کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات اٹھائے، جدید آبپاشی کے طریقے متعارف کرائے، اور کسانوں کو اس بحران سے نمٹنے کے لیے تیار کرے۔ ورنہ، آنے والے دنوں میں پانی کی جنگ اور خوراک کی قلت ایک بڑا مسئلہ بن سکتی ہے۔
حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ پانی کے موثر استعمال، بارش کے پانی کے ذخیرہ کرنے، اور کاشتکاروں کو جدید ٹیکنالوجی سے آگاہ کرنے کے لیے فوری اقدامات اٹھائیں۔ ورنہ، پانی کی یہ قلت نہ صرف فصلوں کو تباہ کر دے گی بلکہ ملک کی معیشت اور عوام کی روزمرہ زندگی کو بھی بری طرح متاثر کرے گی۔ کیا ہم اس بحران کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں؟ وقت بتائے گا۔