جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے اسلام آباد میں ہونے والی پریس کانفرنس میں موجودہ حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جس دن یہ غیرآئینی حکومت جائے گی، اسی دن مہنگائی اور دہشتگردی کا خاتمہ ہو جائے گا، انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس نااہل حکومت کو لانے والے کون ہیں؟ جب ادارے اپنی آئینی حدود سے تجاوز کریں گے تو گورننس کا بحران تو پیدا ہوگا ہی۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں امن تب ہی قائم ہو سکتا ہے جب مقامی آبادی کو اعتماد میں لیا جائے۔ انہوں نے افغانستان کے ساتھ تعلقات کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کو دہشتگردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی،ساتھ ہی طورخم بارڈر کے کھلنے کو ایک مثبت قدم قرار دیا۔
جماعت اسلامی نے اعلان کیا کہ وہ 14 اپریل کو اسلام آباد میں بلوچستان کے مسئلے پر آل پارٹیز کانفرنس بلائیں گی، جبکہ 20 اپریل کو پشاور میں امن مارچ منعقد کیا جائے گا۔ عید کے بعد بجلی کی قیمتوں میں کمی کے لیے ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔
انہوں نے موجودہ معاشی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف عوام مہنگائی سے برباد ہو رہے ہیں، دوسری طرف حکمران اپنی تنخواہوں اور مراعات میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے پٹرولیم مصنوعات پر لیوی میں اضافے اور سولر صارفین پر پابندیوں کو عوام کے خلاف جنگ قرار دیا۔
امیر جماعت اسلامی نے اعلان کیا کہ وہ پرامن سیاسی مزاحمت جاری رکھے گی اور عوام کو ان کے بنیادی حقوق دلانے کے لیے جدوجہد کرتی رہے گی۔ حافظ صاحب نے خبردار کیا کہ اگر بیرونی طاقتوں کی مداخلت اور مقامی غلاموں کی حکومت ختم نہ کی گئی تو ملک مزید بحرانوں کا شکار ہو سکتا ہے۔
حافظ نعیم الرحمن کے اس بیان نے موجودہ حکومت کے خلاف ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ انہوں نے نہ صرف حکومت بلکہ اداروں کو بھی براہ راست نشانہ بنایا ہے۔ آنے والے دنوں میں جماعت اسلامی کی تحریک سیاسی منظر نامے کو کس طرح متاثر کرتی ہے، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا۔