پی ٹی آئی کے سابق وکیل فیصل چوہدری نے نجی ٹی وی چینل پر ہلچل مچا دینے والا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ سلمان اکرم راجہ کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ کو دی گئی انڈرٹیکنگ کا علم تک خود عمران خان کو نہیں تھا۔ چوہدری کا کہنا تھا کہ میں جیل میں عمران خان سے ضرور پوچھوں گا کہ آخر میرے خلاف کیا کان بھرے گئے ہیں، اور میں اس معاملے کو یوں نہیں جانے دوں گا۔
انہوں نے پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت پر بھرپور تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کی سیاسی ٹیم نہ صرف ناتجربہ کار ہے بلکہ عمران خان کو جیل سے نکالنے کا کوئی واضح لائحہ عمل بھی پیش کرنے سے قاصر ہے۔ چوہدری نے سوال اٹھایا جب سیاسی رہنما خود سامنے نہیں آ رہے، تو پھر عید کے بعد سڑکوں پر احتجاج کیسے ہوگا؟
اس سے بھی زیادہ سنگین بات یہ بتائی کہ سلمان راجہ نے عدالت میں پارٹی کے ہاتھ کاٹ دیے ہیں، مگر اس کے باوجود عمران خان کی بہنوں کو ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ تاہم چوہدری نے خوشخبری بھی سنائی کہ عمران خان کی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد جلد ہی تشکیل پانے والا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری ٹیم اس سلسلے میں سرگرم عمل ہے، لیکن جیسے ہی ہماری بات چیت شروع ہوئی، وزیراعظم مولانا فضل الرحمن ہمیں روکنے پہنچ گئے۔ چوہدری نے سخت لہجے میں کہا کہ ملک میں درحقیقت ایک غیر اعلانیہ مارشل لا نافذ ہے، اور تمام سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اس کے خلاف متحد ہو کر جدوجہد کریں۔
ان کا اصرار تھا کہ ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے کا واحد راستہ صاف شفاف انتخابات کا انعقاد ہے۔ فیصل چوہدری کے اس بیان نے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں واضح ہونے کی توقع ہے۔