چین کے 41 سالہ سافٹ ویئر انجینئر زینگ یامنگ نے اپنی خاموش طبیعت کے باوجود دنیا کو ایک ایسا پلیٹ فارم دیا جس نے نوجوان نسل کو ہلا کر رکھ دیا۔ آج وہ 57.5 ارب ڈالر کی مالیت کے ساتھ چین کے امیر ترین شخص بن چکے ہیں، مگر ان کی کہانی روایتی "ٹیک ٹائیکون” کی کہانی سے یکسر مختلف ہے۔
2005 میں نانکی یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے والے زینگ نے اپنے کیریئر کا آغاز ایک چھوٹی سی کمپنی Kuxun میں انجینئرکے طور پر کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ *”میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایک دن میں ٹک ٹاک جیسی دنیا بدل دینے والی ایپ کا مالک بنوں گا”*۔ ان کی محنت اور ذمہ داری نے انہیں محض دو سال میں 50 افراد کی ٹیم کا لیڈر بنا دیا۔
حیرت انگیز بات یہ کہ زینگ یامنگ خود ٹک ٹاک استعمال نہیں کرتے تھے۔ ان کی رائے کے مطابق میں سمجھتا تھا یہ صرف نوجوانوں کے لیے ہے،لیکن جب انہوں نے اپنی کمپنی کے تمام ملازمین کو ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے پر مجبور کیا، تو یہی پلیٹ فارم ان کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ بنا۔
دلچسپ تضاد یہ کہ جہاں ٹک ٹاک کے صارفین اپنی زندگیاں آن لائن شیئر کرتے ہیں، وہیں اس کے بانی نے اپنی نجی زندگی کو مکمل طور ٹک ٹاک مالک زینگ یامنگ 57 ارب ڈالر والا وہ شخص جو خود کبھی ٹک ٹاک اسٹار نہیں بنا
چین کے 41 سالہ سافٹ ویئر انجینئر زینگ یامنگ نے اپنی خاموش طبیعت کے باوجود دنیا کو ایک ایسا پلیٹ فارم دیا جس نے نوجوان نسل کو ہلا کر رکھ دیا۔ آج وہ 57.5 ارب ڈالر کی مالیت کے ساتھ چین کے امیر ترین شخص بن چکے ہیں، مگر ان کی کہانی روایتی "ٹیک ٹائیکون” کی کہانی سے یکسر مختلف ہے۔
2005 میں نانکی یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے والے زینگ نے اپنے کیریئر کا آغاز ایک چھوٹی سی کمپنی Kuxun میں انجینئرکے طور پر کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ *”میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایک دن میں ٹک ٹاک جیسی دنیا بدل دینے والی ایپ کا مالک بنوں گا”*۔ ان کی محنت اور ذمہ داری نے انہیں محض دو سال میں 50 افراد کی ٹیم کا لیڈر بنا دیا۔
حیرت انگیز بات یہ کہ زینگ یامنگ خود ٹک ٹاک استعمال نہیں کرتے تھے۔ ان کی رائے کے مطابق میں سمجھتا تھا یہ صرف نوجوانوں کے لیے ہے،لیکن جب انہوں نے اپنی کمپنی کے تمام ملازمین کو ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے پر مجبور کیا، تو یہی پلیٹ فارم ان کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ بنا۔
دلچسپ تضاد یہ کہ جہاں ٹک ٹاک کے صارفین اپنی زندگیاں آن لائن شیئر کرتے ہیں، وہیں اس کے بانی نے اپنی نجی زندگی کو مکمل طور پر پرائیویٹ رکھا ہوا ہے۔ ان کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں، جو انہیں ٹیک دنیا کا ایک پراسرار کردار بنا دیتی ہیں۔
زینگ کا ماننا ہے کہ اگر آپ کسی چیز کے بارے میں پرجوش ہیں، تو آپ کو ہر کردار ادا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ یہی وہ فلسفہ تھا جس نے انہیں ایک عام انجینئر سے دنیا کے 24ویں امیر ترین شخص تک پہنچا دیا۔ آج ٹک ٹاک صرف ایک ٹک ٹاک اب صرف ایک ایپ نہیں، بلکہ ثقافت، فیشن اور سیاست کو متاثر کرنےوالا ایک عالمی طاقت بن چکا ہے۔ اور اس سب کے پیچھے ایک ایسا شخص ہے جو خود اس جنون سے دور، خاموشی سے اپنی سلطنت چلا رہا ہے۔ کیا یہ جدید دور کی کامیابی کی سب سے غیر روایتی کہانی نہیں؟پرائیویٹ رکھا ہوا ہے۔ ان کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں، جو انہیں ٹیک دنیا کا ایک پراسرار کردار بنا دیتی ہیں۔
زینگ کا ماننا ہے کہ اگر آپ کسی چیز کے بارے میں پرجوش ہیں، تو آپ کو ہر کردار ادا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ یہی وہ فلسفہ تھا جس نے انہیں ایک عام انجینئر سے دنیا کے 24ویں امیر ترین شخص تک پہنچا دیا۔ آج ٹک ٹاک صرف ایک ٹک ٹاک اب صرف ایک ایپ نہیں، بلکہ ثقافت، فیشن اور سیاست کو متاثر کرنےوالا ایک عالمی طاقت بن چکا ہے۔ اور اس سب کے پیچھے ایک ایسا شخص ہے جو خود اس جنون سے دور، خاموشی سے اپنی سلطنت چلا رہا ہے۔ کیا یہ جدید دور کی کامیابی کی سب سے غیر روایتی کہانی نہیں؟