وزیراعظم شہباز شریف نے گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں 7 روپے 41 پیسے اور صنعتوں کے لیے 7 روپے 59 پیسے فی یونٹ کمی کا اعلان کیا۔بجلی کے نرخوں میں کمی کے حکومتی پیکج کے حوالے سے تقریب اسلام آباد میں ہوئی جس میں وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، خواجہ آصف، رانا ثنا اللّٰہ اور دیگر وزرا بھی شریک ہوئے۔
تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جس کے بعد نعتِ رسولِ مقبول صلی اللّٰہ علیہ وسلم پیش کی گئی۔بعدازاں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ آگے بڑھتے ہوئے ماضی پر بھی نظر ڈالنا ضروری ہے، ہمیں کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے کے لیے دن رات کوششیں کی گئیں، منشور میں کیے گئے وعدے کو پورا کرنے کا وقت آ گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سنبھالی تو ملک پر ڈیفالٹ کی تلوار لٹک رہی تھی، آئی ایم ایف بات سننے کو تیار نہیں تھا، آرمی چیف اور ان کے رفقا کا معاشی استحکام کے لیے بھرپور تعاون رہا، معاشی استحکام کی راہ میں پہاڑ جیسی رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں۔وزیراعظم نے کہا کہ خطے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آج بھی پاکستان میں سب سے کم ہیں، شرح سود 22 فیصد سےکم ہو کر 12 فیصد ہوچکا ہے، مہنگائی 38 فیصد سے کم ہو کر سنگل ڈیجیٹ پر آچکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ معیشت کی بہتری کے لیے سرجری کرنی پڑے گی، ملکی معیشت اندھیروں کے بجائے اجالوں کی طرف آ رہی ہے، آئی ایم ایف پروگرام کے ہوتے ہوئے کوئی سبسڈی نہیں دی جاسکتی۔شہباز شریف نے کہا کہ جب تک بجلی کی قیمتوں میں کمی نہیں آئے گی صنعت، تجارت اور زراعت میں ترقی نہیں ہوسکتی، پاکستان میں معاشی استحکام آچکا ہے، اب اڑان بھرنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف نے بجلی کی قیمتوں میں کمی سے انکار کردیا تھا، آئی ایم ایف سے بات چیت کی اور بتایا کہ پیٹرول کی قیمت کم کرنے کے بجائے بجلی کی مد میں عوام کو ریلیف دینا چاہ رہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ آئی پی پیز کے خلاف کچھ نہیں کہنا، آئی پی پیز کے ساتھ بات چیت ہوئی انہوں نے کئی سو فیصد کمایا ہے، آئی پی پیز سے بات چیت میں کہا کہ آپ نے کئی گنا کمایا اب قوم کو فائدہ دیں۔