دبئی جو اپنی عیش و آرام کی زندگی کے لیے مشہور ہے، اب خلیج عرب کے فیروزی پانیوں میں تیرنے والے ولاز کی میزبانی کرے گا۔ یہ تیرتے ولاز نہ صرف فروخت بلکہ کرایہ پر بھی دستیاب ہوں گے۔ خلیج ٹائمز کے مطابق، ان ولاز کی تعمیر ہاؤس بوٹس سے مشابہ ہے اور 48 آبی جہازوں کو دوبارہ تیار کرکے مکمل کیا جا رہا ہے۔ یہ ولاز مکمل طور پر متحدہ عرب امارات میں تیار کیے جائیں گے، جہاں دو بیڈ روم والا ولا 29 ملین درہم، تین بیڈ روم والا 32 ملین درہم اور چار بیڈ روم والا ولا 46 ملین درہم میں دستیاب ہوگا۔ کل 48 ولاز میں سے 8 اس وقت تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں اور دبئی پام مرینا میں لنگر انداز کیے جا چکے ہیں۔
البحراوی گروپ کی کمرشل ڈائریکٹر کلاڈیا گومز کے مطابق، ‘نیپچون’ پہلا تیرتا اور موبائل ولا ہے جو کیمپنسکی فلوٹنگ پیلس ریزورٹ پروجیکٹ کا حصہ ہے۔ اس منصوبے میں 48 لگژری موبائل ولاز اور ایک تیرتا ہوا ہوٹل شامل ہے، جس کی مجموعی مارکیٹ ویلیو 1.6 بلین درہم تک پہنچے گی۔ دنیا میں اپنی نوعیت کے پہلے اس پروجیکٹ میں دیگر تیرتے ولاز کے برعکس، مکمل نقل و حرکت کی صلاحیت موجود ہے۔ یہ ولاز دو منزلوں پر مشتمل ہیں اور ان میں ایک چھت بھی موجود ہے، جو مجموعی طور پر 6,300 مربع فٹ کے رقبے پر پھیلی ہوئی ہے۔ آف پیک سیزن میں یہ ولاز 50 ہزار درہم فی رات کی ابتدائی قیمت پر کرائے پر دستیاب ہوں گے۔ ہر ولا میں ایک کپتان، تین ڈیک ہینڈز اور دو اسٹیورڈز پر مشتمل چھ افراد کا عملہ ہوگا تاکہ مہمانوں کو لگژری تجربہ فراہم کیا جا سکے۔
ان ولاز کی تعمیر عام طور پر 12 مہینے میں مکمل ہوتی ہے، تاہم چار بیڈ روم والے ولاز قدرے زیادہ وقت لیتے ہیں۔ دو بیڈ روم والا ولا 5,800 مربع فٹ، تین بیڈروم 6,500 مربع فٹ اور چار بیڈ روم والا ولا 10,400 مربع فٹ کے وسیع رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ تین بیڈروم والے ولا کے گراؤنڈ فلور میں ایک وسیع لونگ روم، اوپن ڈائننگ ایریا، کچن، گیسٹ ریسٹ روم، کریو چیمبر، سروس روم، کاک پٹ، باہر بیٹھنے کی جگہ، جیٹ اسکی اسٹوریج اور لانچ پلیٹ فارم شامل ہے، جبکہ بالائی منزل میں تین بیڈروم، واک ان الماری اور دو باتھ رومز موجود ہیں۔ چھت پر ایک پرائیویٹ انفینٹی سوئمنگ پول بنایا گیا ہے جو شیشے کی دیواروں سے گھرا ہوا ہے اور اس کے ساتھ بیرونی بیٹھنے کی جگہ، باربی کیو ایریا، ڈرائیونگ کنٹرول اسٹیشن اور ایک ڈسپلے اسکرین بھی موجود ہے۔
ولا خریدنے والے مالکان کے پاس دو اختیارات ہوں گے؛ وہ یا تو اسے ذاتی استعمال میں رکھ سکتے ہیں یا کیمپ نسکی کے انتظام میں دے کر کرایے سے آمدنی حاصل کر سکتے ہیں۔ اگر ولا ہوٹل کے انتظام میں ہوگا تو پیشہ ور تربیت یافتہ عملہ لگژری سروس فراہم کرے گا، جبکہ ذاتی استعمال کی صورت میں مالکان یا تو اپنا عملہ رکھ سکتے ہیں یا کمپنی سے کم از کم چھ افراد پر مشتمل عملہ حاصل کر سکتے ہیں۔ بعض مالکان پہلے سے ہی یاٹ اور عملے کے مالک ہیں اور وہ خود بھی اس ولا کا انتظام سنبھال سکتے ہیں۔ اگر کوئی مالک اس جہاز کو خود چلانے کا اہل ہو، تو کمپنی ان کے لیے تربیت فراہم کرے گی تاکہ وہ اس ولا کے جدید ترین نیویگیشن سسٹم کو سمجھ سکیں۔ برج العرب کا ایک راؤنڈ ٹرپ عام طور پر دو گھنٹوں میں مکمل ہوتا ہے، جبکہ ابوظہبی کے لیے یک طرفہ سفر تقریباً 12 گھنٹے کا ہوگا۔
نیپچون ولاز خاص طور پر ساحلی علاقوں میں آرام دہ سیر کے لیے تیار کیے گئے ہیں اور ان کی رفتار 6 سے 8 ناٹس جبکہ زیادہ سے زیادہ 12 ناٹس فی گھنٹہ تک ہو سکتی ہے۔ ان میں ماحول دوست انجن استعمال کیے گئے ہیں جو بجلی پر بھی چل سکتے ہیں۔ راس الخیمہ کے شپ یارڈ میں ان ولاز کا مکمل ڈیزائن اور تعمیر کیمپنسکی کے تعاون سے کیا گیا ہے تاکہ انہیں لگژری تجربے کے مطابق ڈھالا جا سکے۔ اس پروجیکٹ میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو تقریباً 8 فیصد ریٹرن آن انویسٹمنٹ حاصل ہو سکتا ہے، جسے ایک منفرد اور خصوصی اثاثہ سمجھا جا رہا ہے۔ جدید ترین ٹیکنالوجی سے آراستہ ان ولاز میں اسمارٹ کنٹرول سسٹم نصب کیا گیا ہے، جو روشنی اور درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ تفریحی اسکرینز تک آسان رسائی بھی فراہم کرتا ہے۔ فی الحال، یہ ولاز زیادہ تر روسی اور بھارتی سرمایہ کاروں کو فروخت کیے جا چکے ہیں۔ البحراوی گروپ کے چیئرمین محمد البحراوی کا کہنا ہے کہ اس پروجیکٹ کی کامیابی کا اندازہ مختلف ایشیائی اور مغربی ممالک کے سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی سے لگایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق، کمپنی دبئی اور متحدہ عرب امارات کے اعلیٰ معیار اور لگژری کے غیر معمولی معیارات کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے