دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درآمدی ٹیرف کے اعلان سے لرز رہی ہیں، مگر پاکستان نے معاشی میدان میں نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا بینچ مارک KSE-100 انڈیکس پہلی بار ایک لاکھ 20 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کر گیا ہے۔ آج کے دن دورانِ کاروبار 1858 پوائنٹس کا زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد انڈیکس 120,793 پوائنٹس پر ٹریڈ کر رہا ہے۔
یہ پیش رفت وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے بجلی کے نرخوں میں کمی کے اعلان کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی اوسط قیمت 34.37 روپے فی یونٹ جبکہ صنعتی نرخ 40.51 روپے فی یونٹ مقرر کیے گئے ہیں۔ آج کا تجارتی حجم 60 ملین حصص اور مجموعی مالیت 5.12 ارب روپے رہی، جو سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔
اس کے برعکس، امریکی اسٹاک مارکیٹ میں ڈاؤ جونز، S&P 500 اور نیس ڈیک میں شدید مندی دیکھی گئی اور صرف ایک دن میں 1.7 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوا۔ پاکستان کی مارکیٹ کی یہ پرواز اس بات کی دلیل ہے کہ درست پالیسی سازی سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو سکتا ہے، چاہے دنیا کسی بھی بحران سے دوچار ہو۔
امریکی درآمدی ٹیرف کے باعث عالمی مالیاتی منڈیوں میں ہلچل مچ گئی ہے، لیکن پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ نے تمام منفی رجحانات کو شکست دیتے ہوئے نئی بلندیاں حاصل کر لیں۔ KSE-100 انڈیکس تاریخ میں پہلی بار 1,20,000 پوائنٹس سے اوپر چلا گیا، جبکہ تجارتی دن کے اختتام تک 120,793 پر بند ہوا۔ یہ شاندار پیش رفت وزیر اعظم شہباز شریف کی بجلی کے نرخوں میں کمی کی پالیسی کا اثر ہے، جس نے سرمایہ کاروں میں نیا جوش بھرا۔ اس کے مقابلے میں، دنیا کی بڑی مارکیٹس مندی کا شکار ہیں، حتیٰ کہ امریکہ میں صرف ایک دن میں 1.7 ٹریلین ڈالر کا نقصان ریکارڈ ہوا۔ یہ دن پاکستان کے لیے مالیاتی اعتبار سے ایک سنگ میل ثابت ہوا۔
پاکستان اسٹاک مارکیٹ نے بین الاقوامی مالیاتی ہلچل کے برعکس شاندار کارکردگی دکھا کر سرمایہ کاروں کے لیے امید کی نئی کرن روشن کر دی۔ KSE-100 انڈیکس نے ریکارڈ سطح 120,000 پوائنٹس عبور کر لی، جو ملکی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے۔ وزیر اعظم کی جانب سے بجلی کے نرخوں میں نمایاں کمی کا اعلان ملکی مارکیٹ میں جوش و خروش لے آیا، جبکہ تجارتی حجم اور سرمایہ کاری کی مالیت میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوا۔ دوسری طرف، امریکہ اور دیگر بڑی مارکیٹیں ٹرمپ کے ٹیرف فیصلے کے بعد بھاری نقصان میں گئیں۔ پاکستان نے ثابت کیا کہ اندرونی معاشی فیصلے بیرونی دباؤ کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔
ایک جانب جہاں امریکہ اور اس کے تجارتی شراکت داروں پر درآمدی محصولات کے نفاذ نے دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں کو بحران میں دھکیل دیا، پاکستان کی مارکیٹ نے اُلٹی سمت میں پرواز کی۔ KSE-100 انڈیکس نے تاریخ میں پہلی بار ایک لاکھ بیس ہزار پوائنٹس عبور کیے، جس کا سہرا وزیر اعظم شہباز شریف کی معاشی ریلیف پالیسیز کو دیا جا رہا ہے۔ بجلی کے نرخوں میں کمی اور صنعتی لاگت میں نرمی نے سرمایہ کاروں کو نئی توانائی دی، جس کا عملی مظاہرہ 5.12 بلین کی تجارتی مالیت اور 60 ملین حصص کی خرید و فروخت سے ہوا۔ جب دنیا بحران میں پھنسی، پاکستان نے اُمید کا پرچم بلند کر دیا۔
امریکی ٹیرف پالیسی کے اثر سے دنیا کی بڑی مارکیٹیں دھڑام سے گر پڑیں، مگر پاکستان نے معاشی تدبر کے ذریعے اپنے لیے نئی راہیں ہموار کیں۔ KSE-100 انڈیکس نے غیر معمولی اضافے کے ساتھ پہلی بار 120,000 کی نفسیاتی حد کو عبور کیا۔ سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی میں بجلی کے نرخوں میں 15 فیصد کمی اور فی یونٹ قیمت میں 7.41 روپے کی کمی نے کلیدی کردار ادا کیا۔ آج کا دن نہ صرف اعداد و شمار کی جیت تھی بلکہ معاشی حکمت عملی کی بھی کامیابی تھی۔ دنیا کی نظروں میں بحران، مگر پاکستان کے افق پر معاشی امکانات کی نئی سحرروشن ہورہی ہے۔