سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان دفاعی اشتراکِ عمل کو مزید وسعت دینے اور دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو نئی جہتوں سے استوار کرنے کے لیے حالیہ دنوں میں اہم سفارتی اور عسکری ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہی روابط کے تسلسل میں ریاض میں سعودی عرب کے چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل فیاض الرویلی اور امریکہ کے کمانڈر آف یو ایس سینٹرل کمانڈ جنرل مائیکل کوریلا کے درمیان ایک اہم ملاقات منعقد ہوئی، جس میں دفاعی تعاون، مشترکہ حکمتِ عملی اور فوجی روابط کو مزید گہرا کرنے کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیا۔
اس اہم ملاقات کے دوران دونوں افسران نے خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے سے متعلق بین الاقوامی اور علاقائی کوششوں کا جائزہ لیا، اور اس بات پر زور دیا کہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں باہمی مشاورت اور مشترکہ اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ ملاقات کو دو اتحادی ممالک کے درمیان جاری دفاعی ہم آہنگی کا ایک مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ سعودی عرب کے وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے امریکہ کا دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے واشنگٹن ڈی سی میں امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ سے تفصیلی ملاقات کی۔
اس اعلیٰ سطحی گفتگو میں بھی دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اشتراک، سلامتی کے امور، اور خطے میں استحکام کی کوششوں کو مزید منظم اور مؤثر بنانے پر اتفاق رائے پایا گیا تھا۔
مزید برآں، امریکہ کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ ایک نئے ہتھیاروں کے معاہدے کی منظوری دی گئی ہے، جس کے تحت جدید اور انتہائی مہارت سے نشانہ بنانے والے ہتھیاری نظام کی فروخت کی اجازت دی گئی ہے۔
یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید تقویت بخشنے کی ایک علامت کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
ان تمام ملاقاتوں اور معاہدوں کے ذریعے یہ بات ایک بار پھر واضح ہو گئی ہے کہ سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات محض رسمی یا وقتی نوعیت کے نہیں بلکہ ایک گہرے اسٹریٹجک تعاون پر مبنی ہیں، جن کا مقصد نہ صرف باہمی دفاع کو مضبوط بنانا ہے بلکہ خطے میں دیرپا امن و استحکام کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانا بھی ہے۔