نیوزی لینڈ کے حالیہ دورے کے دوران پاکستان کرکٹ ٹیم کو نہ صرف میدان میں شکستوں کا سامنا کرنا پڑا بلکہ چند غیر اخلاقی واقعات نے ٹیم کے مورال کو مزید متاثر کیا۔
کرکٹ کے میدان میں پیش آنے والے ایک ناخوشگوار واقعے پر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے غیرملکی شائقین کے غیرمہذب رویے کی بھرپور مذمت کی ہے۔
پی سی بی کی جانب سے جاری کردہ ایک تفصیلی اعلامیے میں کہا گیا کہ تیسرے ایک روزہ بین الاقوامی میچ کے دوران کچھ غیرملکی شائقین، جن کا تعلق افغانستان سے بتایا جا رہا ہے، نے پاکستان ٹیم کے کھلاڑیوں کو نازیبا الفاظ کا نشانہ بنایا۔
خاص طور پر کرکٹر خوشدل شاہ کو اس وقت دشواری کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے تماشائیوں کی جانب سے پاکستان مخالف نعرے بازی پر اعتراض کیا اور انہیں بدزبانی سے باز رہنے کی درخواست کی۔
تاہم خوشدل شاہ کی جانب سے تحمل و بردباری کا مظاہرہ کرنے کے باوجود، مذکورہ افغان شائقین نے پشتو زبان میں مزید ناشائستہ جملے کسے اور ماحول کو مزید کشیدہ کر دیا۔
اس سے بڑھ کر، ان میں سے دو افراد نے کھلاڑی کے ساتھ جسمانی طور پر الجھنے کی بھی کوشش کی، جو ایک نہایت افسوسناک پہلو تھا۔
پاکستان ٹیم انتظامیہ نے اس واقعے کی فوری شکایت کی، جس کے نتیجے میں سٹیڈیم کے سکیورٹی عملے نے دونوں بدتمیز شائقین کو گراؤنڈ سے باہر نکال دیا تاکہ کھیل کا ماحول مزید خراب نہ ہو۔
پی سی بی نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ایسے غیر شائستہ رویے کسی صورت قابلِ قبول نہیں اور بین الاقوامی مقابلوں میں کھیل کے وقار کو مجروح کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا جب پاکستان کرکٹ ٹیم کارکردگی کے اعتبار سے شدید دباؤ کا شکار ہے۔
پانچ ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز میں نیوزی لینڈ نے پاکستان کو چار-ایک سے شکست دی، اور اس کے بعد تیسرے ون ڈے میچ میں بھی پاکستان کو 43 رنز سے ہرا کر میزبان ٹیم نے سیریز میں کلین سویپ مکمل کر لیا۔
نیوزی لینڈ کی نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم نے نہ صرف اپنی مہارت اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا بلکہ ہر شعبے میں پاکستانی ٹیم کو بھرپور چیلنج دیا۔
گرین شرٹس، جو حالیہ مہینوں میں کارکردگی کے بحران کا شکار رہی ہے، دونوں سیریز میں جدوجہد کرتی ہوئی نظر آئی۔
میدان میں شکستیں اور میدان کے باہر ہتک آمیز سلوک، دونوں ہی ٹیم کے لیے باعثِ تشویش ہیں، اور ان حالات میں کرکٹ بورڈ کی جانب سے شفاف تحقیقات اور مستقبل میں مؤثر حفاظتی اقدامات کی ضرورت اور بھی بڑھ گئی ہے تاکہ کھلاڑی نہ صرف محفوظ رہیں بلکہ اپنے ملک کی نمائندگی پر فخر بھی محسوس کر سکیں۔