خان اکیڈمی، جو ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے، ہر سال دنیا بھر میں 100 ملین سے زائد طلباء کو مفت اور عالمی معیار کی تعلیم فراہم کرتی ہے۔ اس کے تعلیمی وسائل مختلف زبانوں میں دستیاب ہیں، اور اس منصوبے کو دنیا بھر کے معاون پاکستانیوں کی مالی مدد حاصل ہے۔ اس کے بورڈ ممبران میں عثمان رشید، نعیم زمیندار، امین ہاشوانی، میر ابراہیم رحمان اور دیگر شامل ہیں۔
کراچی کے ایک ہوٹل میں خان اکیڈمی کے افتتاحی تقریب منعقد ہوئی، جس میں تعلیم کے ماہرین، پالیسی سازوں اور کاروباری رہنماؤں نے شرکت کی۔ اس موقع پر "خانمیگو” نامی اے آئی لرننگ ٹول بھی متعارف کروایا گیا۔ خان اکیڈمی کے بانی سلمان خان نے کہا کہ اس اقدام کے ذریعے پاکستان کے نوجوانوں کی بے پناہ صلاحیتوں کو بہتر طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اس منصوبے کا مقصد اے آئی ٹیکنالوجی کے ذریعے طلباء اور اساتذہ کو اعلیٰ معیار کی، سستی اور ذاتی نوعیت کی تعلیم فراہم کرنا ہے۔ سی اے پی (CAP) کے چیئرمین عثمان رشید نے اسے بچوں کے مستقبل کے لیے ایک عہد قرار دیا، جبکہ سی اے پی کے سی ای او ذیشان حسن نے کہا کہ یہ مساوی تعلیم کی جانب ایک انقلابی قدم ہے، جو ملک بھر کے طلباء اور اساتذہ کو جدید سہولتیں فراہم کرے گا اور تعلیم کو فروغ دے گا۔ سی اے پی 2025 میں اپنے دوسرے مرحلے کے دوران بڑے نجی اسکول نیٹ ورکس کے ساتھ تعاون بھی کرے گا۔