وزیرِاعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مخالفین مسلسل یہ دعوے کرتے رہے کہ حکومت ایک نیا منی بجٹ لانے جا رہی ہے، لیکن تمام قیاس آرائیاں دم توڑ گئیں جب حکومت نے انتہائی چیلنجنگ حالات میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ ایک اہم اسٹاف لیول معاہدہ طے کر لیا۔
انہوں نے اس کامیابی کو حکومت کی معاشی پالیسیوں پر اعتماد کا مظہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ ایسے وقت میں ممکن ہوا جب ملک کو معاشی عدم استحکام اور دہشت گردی جیسے مسائل کا سامنا تھا۔
انہوں نے خاص طور پر اس حقیقت پر زور دیا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے دوران بعض عناصر یہ افواہیں پھیلاتے رہے کہ حکومت مالی بحران کی وجہ سے نیا منی بجٹ لانے پر مجبور ہو جائے گی، لیکن ان تمام اندازوں کو غلط ثابت کرتے ہوئے حکومت نے عالمی ادارے سے کامیاب معاہدہ کر لیا۔
اپنی تقریر میں وزیرِاعظم نے معاشی ٹیم، وفاقی وزراء اور حکومتی مشیروں کے ساتھ ساتھ عوام کا بھی شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ صرف حکومتی کوششوں کا نتیجہ نہیں بلکہ عوام کی قربانیوں کی بدولت ممکن ہوا ہے۔
انہوں نے مہنگائی کے بوجھ کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنے پر عوام کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر عوام اس مشکل وقت میں صبر اور حوصلے کا مظاہرہ نہ کرتے تو حکومت کے لیے یہ معاہدہ حاصل کرنا مشکل ہو جاتا۔
وزیرِاعظم نے اس موقع پر آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا بھی خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آئی ایم ایف معاہدے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ قومی ادارے مل کر کام کر رہے ہیں اور یہی اتحاد ملک کی ترقی اور استحکام کی ضمانت ہے۔
وزیرِاعظم نے مزید کہا کہ اس معاہدے میں صوبوں کی شمولیت بھی اہم رہی اور زرعی ٹیکس کے بغیر یہ کامیابی ممکن نہیں تھی۔
انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ گزشتہ مالی سال کے دوران آئی ایم ایف نے پاکستان کے ٹیکس کلیکشن کے اہداف مقرر کیے تھے، جو کہ حکومت نے کامیابی سے حاصل کر لیے۔
انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران آئی ایم ایف نے پاکستان پر دباؤ ڈالا کہ وہ اپنے محصولات کے اہداف کم کر دے، لیکن حکومت نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ عالمی مالیاتی ادارے کو اس فیصلے پر حیرت بھی ہوئی ہو گی، مگر حکومت نے مضبوط موقف اختیار کرتے ہوئے بات چیت کو اس نہج پر پہنچایا جہاں آخرکار 12.3 فیصد کے ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب پر اتفاق ہو گیا، جو ملک کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔
وزیرِاعظم نے کہا کہ ایک مضبوط قیادت ہی معیشت کو استحکام دے سکتی ہے، اور اگر ٹیم لیڈر درست سمت میں نہ ہو تو باقی ٹیم کے لیے بھی بہتر نتائج دینا ممکن نہیں ہوتا۔
انہوں نے اس موقع پر حکومت کی مالی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ سال کے دوران ٹیکس محصولات میں 26 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا اور مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی واقع ہوئی، جو کہ حکومتی پالیسیوں کی کامیابی کا ثبوت ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ قانونی معاملات پر حکومت نے فوری کام کا آغاز کیا اور مختلف ٹیکس کیسز سے اب تک 34 ارب روپے کی ریکوری ممکن ہو چکی ہے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معیشت کو دستاویزی شکل دینے اور ٹیکس چوری کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے کے حکومتی فیصلے درست سمت میں جا رہے ہیں۔
آخر میں وزیرِاعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت ملک کو معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے بھرپور کوششیں جاری رکھے گی اور عوام کی فلاح و بہبود کو ہمیشہ ترجیح دی جائے گی۔