پاکستان کے دفتر خارجہ نے امریکہ کی جانب سے پاکستانی برآمداتی کمپنیوں پر عائد کردہ پابندیوں کو بلاجواز اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے اس پر سخت ردعمل دیا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ بغیر کسی واضح ثبوت یا ٹھوس جواز کے پاکستانی کمرشل اداروں کو نشانہ بنایا جانا ناانصافی پر مبنی ہے اور یہ عمل عالمی تجارتی اصولوں کے منافی ہے۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب امریکہ نے رواں ہفتے پاکستان سمیت ایران، چین، متحدہ عرب امارات اور جنوبی افریقہ کی 70 کمپنیوں پر مختلف پابندیاں عائد کر دیں۔
امریکی حکام کا کہنا تھا کہ یہ کمپنیاں ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہیں جو امریکہ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے خلاف جاتی ہیں۔
تاہم، پاکستان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ پابندیاں کسی بھی ٹھوس شواہد کے بغیر عائد کی گئی ہیں اور پاکستانی کاروباری اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔
دفتر خارجہ نے اس کے ساتھ ہی اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین کے اس حالیہ بیان کو بھی غیر متوازن اور یکطرفہ قرار دیا ہے، جس میں بلوچستان میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن ختم کرنے اور ان کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے ماہرین نے اپنے بیان میں صرف ایک مخصوص بیانیے کو اجاگر کیا اور دہشت گرد حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کو نظر انداز کر دیا، جو انصاف اور غیر جانبداری کے اصولوں کے خلاف ہے۔
ترجمان نے کہا کہ جو عناصر قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تشدد اور انتشار پھیلا رہے ہیں، ان کی سرگرمیوں کو صرف احتجاج کا نام نہیں دیا جا سکتا، بلکہ یہ ایک منظم اور سوچے سمجھے منصوبے کے تحت لاقانونیت اور بدامنی کو فروغ دینے کی کوشش ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پاکستان کے تمام اقدامات بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہیں، جن میں دہشت گردی اور شدت پسندی کو ہوا دینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جاتی ہے۔
کسی بھی دہشت گرد، اس کے سہولت کار یا مددگار کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے، اور پاکستان ایسے عناصر کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔
مزید برآں، دفتر خارجہ کے ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے تمام شہریوں کو ان کے آئینی حقوق کے مطابق قانونی کارروائی کا مکمل اختیار حاصل ہے اور انہیں انصاف کے حصول کے لیے تمام ضروری ادارہ جاتی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ اقوام متحدہ کے خصوصی مینڈیٹ ہولڈرز کے ساتھ تعمیری مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن یہ مشاورت باہمی احترام، غیر جانبداری اور زمینی حقائق کی بنیاد پر ہونی چاہیے، نہ کہ یکطرفہ بیانات پر مبنی۔