ہیملٹن میں کھیلے گئے دوسرے ون ڈے میں پاکستانی ٹیم کی بدترین کارکردگی نے ایک بار پھر شائقین کرکٹ کو مایوس کردیا۔ 293 رنز کے ہدف کے تعاقب میں قومی ٹیم 41.2 اوورز میں محض 208 رنز پر ڈھیر ہوگئی اور نیوزی لینڈ نے 84 رنز سے جیت کر سیریز اپنے نام کرلی۔
پاکستانی بیٹنگ لائن کا حال دیکھ کر یہی لگتا تھا کہ کھلاڑی میچ جیتنے نہیں بلکہ جلد از جلد پویلین واپس جانے کے لیے آئے ہیں۔ ٹاپ آرڈر کی بدترین ناکامی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف 32 رنز پر آدھی ٹیم ڈریسنگ روم میں بیٹھی تھی۔ عبداللہ شفیق (1)، بابر اعظم (1) اور امام الحق (3) ایک بار پھر ٹیم کو دھوکہ دے گئے، جبکہ بقیہ بلے باز بھی جلد بازی میں وکٹیں گنواتے رہے۔
نیوزی لینڈ کے بین سیئرز پاکستانی بلے بازوں کے لیے ایک خوفناک خواب ثابت ہوئے۔ ان کی تیز رفتار اور سوئنگ بولنگ کے سامنے بیٹنگ لائن ریت کی دیوار ثابت ہوئی۔ نسیم شاہ (51) اور فہیم اشرف (73) نے کچھ مزاحمت کی، مگر ان کی اننگز شکست کو ٹالنے میں ناکام رہیں۔ حارث رؤف 3 رنز بنا کر ریٹائر ہرٹ ہوئے، اور آخری وکٹ عاکف جاوید کے 8 رنز پر گری۔
اس سے قبل پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا، مگر نیوزی لینڈ کے بلے بازوں نے گرین شرٹس کے بولرز کو بے بس کردیا۔ 50 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 292 رنز بنائے گئے۔ مچل ہے نے شاندار 99 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلی، مگر بدقسمتی سے صرف ایک رن کے فرق سے سنچری مکمل نہ کر سکے۔ پاکستانی بولرز کی کارکردگی بھی کچھ خاص نہ رہی۔ سفیان مقیم اور محمد وسیم نے 2،2 وکٹیں لیں، جبکہ حارث رؤف، عاکف جاوید اور فہیم اشرف کے حصے میں ایک ایک وکٹ آئی۔
پاکستانی ٹیم کی یہ شکست صرف ایک میچ کی ہار نہیں، بلکہ انتظامیہ، کوچنگ اسٹاف اور کھلاڑیوں کی اجتماعی ناکامی کا ثبوت ہے۔ ہر سیریز میں وہی غلطیاں دہرائی جا رہی ہیں، مگر کوئی سبق نہیں سیکھ رہا۔ آخر کب تک پاکستانی شائقین کو صرف دلاسے اور خالی امیدوں پر زندہ رکھا جائے گا؟ کیا تبدیلی صرف بیانات تک محدود رہے گی؟ اگر یہی روش برقرار رہی تو ورلڈ کرکٹ میں پاکستان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے