پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان باہمی تجارتی تعلقات کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے، اور اس سلسلے میں سعودی عرب میں مقیم پاکستانی تاجر برادری کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات احسن اقبال نے سعودی عرب میں پاکستانی تاجروں کو مخاطب کرتے ہوئے زور دیا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی شراکت داری کو مستحکم کرنے میں متحرک کردار ادا کریں۔
جدہ میں منعقدہ ایک خصوصی استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، وفاقی وزیر نے پاکستان کے مستقبل کے اقتصادی وژن پر روشنی ڈالی اور اس سلسلے میں اڑان پاکستان اقدام کا ذکر کیا، جو پاکستان کی معیشت کو ایک نئے دور میں داخل کرنے کا جامع منصوبہ ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اس منصوبے کے تحت پانچ نکاتی فریم ورک (Five-E Framework) متعارف کرایا گیا ہے، جس کا مقصد پاکستان کو 2035 تک ایک ٹریلین ڈالر اور 2047 تک تین ٹریلین ڈالر کی معیشت میں تبدیل کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملکی ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے سیاسی استحکام نہایت ضروری ہے۔
اگر معیشت کو ترقی دینی ہے تو ہمیں سیاسی کشیدگی اور عدم استحکام سے بالاتر ہو کر ایک مضبوط اور واضح معاشی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔
اس حوالے سے انہوں نے ایک معاشی لانگ مارچ کی ضرورت پر زور دیا، جو کسی بھی سیاسی مداخلت سے پاک ہو اور صرف اقتصادی ترقی پر مرکوز ہو۔
احسن اقبال نے واضح کیا کہ برآمدات میں اضافہ اڑان پاکستان کے بنیادی نکات میں سے ایک ہے۔
ان کے بقول، پاکستان کی معیشتی خود مختاری کا براہ راست تعلق اس کی غیر ملکی زرمبادلہ کمانے کی صلاحیت سے ہے، اور اس مقصد کے لیے ڈالر کمانا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی تاجر برادری سعودی عرب میں سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرے، تجارتی شراکت داری کو فروغ دے اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرے، کیونکہ یہی حکمت عملی پاکستان کو ترقی کی نئی راہوں پر گامزن کر سکتی ہے۔