ضلع کرم میں پائیدار امن کے قیام کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں کوہاٹ امن معاہدے کے تحت فریقین کے بنکرز کی مسماری کا عمل جاری ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق اب تک ضلع بھر میں 988 چھوٹے بڑے بنکرز تباہ کیے جا چکے ہیں جن میں اپر کرم کے 635 اور لوئر کرم کے 353 بنکرز شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدم خطے میں دیرپا امن اور معمولاتِ زندگی کی بحالی کے لیے نہایت اہم ہے۔
نگران حکومت کے مشیر برائے اطلاعات بیرسٹر سیف نے بھی اس پیش رفت کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کرم میں فریقین کے 900 سے زائد بنکرز ختم کیے جا چکے ہیں۔
تاہم دوسری جانب، امن معاہدے کے باوجود کئی اہم راستے تاحال بند ہیں، جس کے باعث مقامی آبادی شدید مشکلات سے دوچار ہے۔ آمد و رفت کی بندش پر شہریوں نے پاراچنار پریس کلب کے باہر احتجاجی دھرنا دے رکھا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ بنکرز گرائے جا رہے ہیں تو راستے کیوں بند ہیں؟ ان کا مطالبہ ہے کہ معاہدے پر مکمل عملدرآمد کیا جائے اور روزمرہ زندگی کو بحال کرنے کے لیے فوری طور پر تمام بند راستے کھولے جائیں۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق بنکرز کی مسماری یقیناً امن کی طرف ایک مثبت قدم ہے، لیکن اصل کامیابی تب ہی ممکن ہوگی جب علاقے کے باسی خود کو آزاد، محفوظ اور بااختیار محسوس کریں گے۔ ضلعی انتظامیہ اور حکومتِ خیبرپختونخوا کے لیے ضروری ہے کہ وہ راستوں کی بحالی، عوامی سہولیات کی فراہمی اور فریقین کے درمیان دیرپا مکالمے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے تاکہ خطے میں مکمل اور حقیقی امن قائم ہو سکے