اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے نجی حج اسکیم کے تحت حاجیوں کے بروقت انتظامات اور سعودی عرب کی پالیسیوں پر عملدرآمد نہ ہونے کے معاملے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطح کی 3 رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی ہے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق، یہ کمیٹی سیکریٹری کابینہ، چیئرمین ایف بی آر، اور چیف سیکریٹری گلگت بلتستان پر مشتمل ہوگی۔ کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تین روز کے اندر اپنی جامع سفارشات وزیراعظم کو پیش کرے۔
کمیٹی کی معاونت کے لیے وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کو سیکریٹریٹ سپورٹ کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ تحقیقاتی کمیٹی اس امر کی جانچ کرے گی کہ نجی حج آپریٹرز کے ذریعے سعودی حکومت کی جاری کردہ حج پالیسی کو مکمل طور پر نافذ کیوں نہ کیا جا سکا، اور وزارتِ مذہبی امور نے نجی آپریٹرز سے متعلق مطلوبہ رسمی کارروائیاں مکمل کرانے کے لیے کیا عملی اقدامات کیے۔
ذرائع کے مطابق، نجی اسکیم کے تحت 70 ہزار پاکستانی حاجیوں کے انتظامات میں تاخیر اور غیر شفافیت نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے، جس پر وزیراعظم نے فوری ایکشن لیتے ہوئے شفافیت اور مؤثر نگرانی کو یقینی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ وزیراعظم کی یہ بروقت مداخلت نہ صرف حاجیوں کے مسائل کے حل کی جانب ایک اہم قدم ہے بلکہ آئندہ کے لیے حج انتظامات کو شفاف اور مؤثر بنانے میں مددگار ثابت ہوگی۔