ماؤنٹ مونگانوئی کے میدان میں ایک بار پھر بادل برسے، لیکن پاکستان کی کارکردگی دیکھ کر شائقین کے چہروں پر مایوسی کی بارش ہو گئی۔ تیسرے اور آخری ون ڈے میں نیوزی لینڈ نے پاکستان کو 43 رنز سے شکست دے کر سیریز تین-صفر سے اپنے نام کر لی۔
265 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستانی بیٹنگ لائن ایک بار پھر دباؤ میں آ گئی۔ اگرچہ عبد اللہ شفیق اور بابر اعظم نے ٹیم کو 73 رنز کا پُراعتماد آغاز دیا، لیکن جیسے ہی یہ شراکت ٹوٹی، وکٹیں تاش کے پتوں کی طرح بکھرتی گئیں۔ بابر اعظم نے سب سے زیادہ 57 رنز بنائے، جبکہ کپتان محمد رضوان نے 37، اور عبد اللہ شفیق و طیب طاہر نے 33، 33 رنز کی اننگز کھیلی۔ باقی بلے باز نیوزی لینڈ کے بولرز کے سامنے بے بس نظر آئے۔
نیوزی لینڈ کے بین سیئرز نے تباہ کن بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانچ پاکستانی کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی، جبکہ جیکب ڈفی نے دو شکار کیے۔ مائیکل بریسویل، محمد عباس اور ڈیرل مچل نے ایک، ایک وکٹ لی۔
میچ سے پہلے بارش کے باعث اوورز میں کمی کر دی گئی تھی، اور نیوزی لینڈ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 42 اوورز میں 264 رنز بنائے۔ کیوی کپتان مائیکل بریسویل نے 59 رنز کی دھواں دھار اننگز کھیلی۔ پاکستان کی جانب سے نوجوان فاسٹ بولر عاکف جاوید نے چار وکٹیں حاصل کیں، جبکہ نسیم شاہ نے دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
پاکستان کی اننگز کا آغاز بھی ڈرامائی رہا۔ امام الحق فیلڈر کی تھرو سے لگنے والی گیند چہرے پر لگنے کے باعث میدان سے باہر چلے گئے اور ریٹائرڈ ہرٹ قرار پائے۔ کچھ دیر کے لیے امید کی کرن نظر آئی، جب پاکستان نے بغیر کسی نقصان کے 59 رنز بنائے تھے، لیکن پھر وہی پرانی کہانی—اچھی شروعات، مایوس کن انجام۔
سیریز کے تینوں میچ ہار کر پاکستان نے ایک اور وائٹ واش اپنے نام کر لیا، اور شائقین ایک بار پھر یہی سوال پوچھنے پر مجبور ہو گئے: کب بدلے گی قسمت؟
اگر آپ چاہیں