پاکستان نے اقوام متحدہ کا کمیشن بنانے کی پیشکش کر دی، تاکہ پہلگام واقعے کی تحقیقات کی جا سکیں۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ بھارت اس پیشکش کو اس لیے مسترد کر رہا ہے کیونکہ اسے خوف ہے کہ تحقیقات سے کچھ اور سامنے نہ آ جائے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کی جانب سے تحقیقات میں رکاوٹ کی وجہ اس کا خوف ہے، نہ کہ حقیقت کو سامنے لانے کی نیت۔ خواجہ آصف نے کہا کہ چاہے کشیدگی کتنی بھی بڑھ جائے، بات چیت کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہنا چاہیے۔
خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ پاک بھارت تصادم کا امکان کم ہو چکا ہے، مگر بھارت میں اس وقت شدید بوکھلاہٹ پائی جا رہی ہے۔ عالمی طاقتیں، بشمول امریکا، روس، چین، ترکی اور ایران، اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ اس معاملے کا حل مذاکرات کے ذریعے نکلنا چاہیے۔
وزیر دفاع نے سوال اٹھایا کہ پہلگام میں ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جس کے فوراً بعد ایف آئی آر درج کر دی گئی، جس سے اس کی ساکھ پر بھارت کے اندر سے ہی شکوک و شبہات پیدا ہو گئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں مشیر قومی سلامتی کے تقرر کا مذاکرات کے معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس اقدام کا مقصد صرف پاکستان کی داخلی سیکیورٹی کے معاملات کو مزید مستحکم کرنا ہے