خادم الحرمین الشریفین ملک سلمان عبد العزیز آل سعود کے خصوصی حکم اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ہدایات کی روشنی میں فلسطین اور لبنان کی تازہ ترین صورتحال پر غور و خوض کے لیے کل ریاض میں عرب اور اسلامی ممالک کا سربراہی اجلاس منعقد ہوگا۔
سعودی قیادت کی طرف سے اس اجلاس کے انعقاد کا اعلان دو ہفتے قبل کیا گیا تھا۔ اس اجلاس کا بنیادی مقصد مسئلہ فلسطین کے حتمی حل کے لیے مشترکہ جدوجہد اور موثر طریقہ کار کو تمام اسلامی اور عرب ممالک کے ساتھ ڈسکس کرتے ہوئے اس کے لیے حتمی کوششوں کا آغاز کرنا ہے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب پہلے ہی دنیا کے سامنے دو ریاستی حل کا فارمولہ پیش کرچکا ہے۔ یعنی فسلطین کے وہ علاقے جن پر اسرائیل نے 1967ء کے حملوں کے بعد قبضہ کیا تھا، وہ فلسطینیوں کو واپس کیے جائیں۔
غربی اردن سے یہودی بستیوں کا خاتمہ کیا جائے، گولان کی پہاڑیوں پر سے ناجائز قبضہ ہٹایا جائے اور دنیا بھر میں موجود 1 کروڑ سے زائد فلسطینیوں کو واپس اُن کے وطن لایا جائے۔ دوسری طرف فلسطینی اس کے بدلے اسرائیل کے خلاف مسلح جدو جہد بند کردیں۔
جبکہ مشرقی یروشلم کو خالی کرکے اسے فلسطین کا دارالحکومت تسلیم کیا جائے۔
یہ وہ شرائط ہیں جو اسرائیل کے لیے آسانی سے قابل قبول نہیں ہوں گی۔ تاہم ان شرائط کو فلسطین میں آزادی کی جنگ لڑنے والی تنظیموں اور تحریکوں نے بھی ماضی میں قبول نہیں کیا تھا۔
حماس، اخوان المسلمین، حزب التحریر، حزب اللہ اور ایران کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا وجود تسلیم کرنا ہی فلسطین کے وجود کی نفی ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ ریاض میں سعودی عرب کی زیر قیادت ہونے والی یہ سربراہی کانفرنس کیا نتائج اخذ کرتی ہے اور مسلمان ممالک کس طرح اس پس منظر میں آگے بڑھتے ہیں۔
ذارئع کا کہنا ہے کہ حماس، حزب اللہ اور ایران جنگ بندی کی صورت میں اب کوئی مستقل امن معاہدہ چاہتے ہیں۔ دوسری طرف عالمی منظر نامہ بھی بدل چکا ہے۔ امریکہ کے حالیہ الیکشن کے بعد جارح مزاج ڈونلڈ ٹرمپ نئے امریکی صدر منتخب ہوچکے ہیں۔
مبصرین کا خیال ہے کہ جنوری میں ٹرمپ کے حلف اُٹھانے سے قبل ہی عرب اور اسلامی ممالک، فلسطینی اور اسرائیلی قیادت کے ساتھ کسی پُرامن نتیجے تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ تاکہ ٹرمپ کے حلف اُٹھاتے ہی اس معاملے کو فریقین کے منظور کردہ متفقہ اصولوں کے مطابق سرانجام دے دیا جائے۔
تاہم اس سلسلے میں کچھ حتمی کہنا ناممکن ہے۔
البتہ یہ ضرور ہے کہ سعودی عرب نے مالی امداد کے ساتھ ساتھ، سیاسی اور سفارتی طور پر جتنی فلسطین کی حمایت کی ہے اس کی خطے کی پوری تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔
آج جبکہ تمام اسلامی اور عرب ممالک مکمل طور پر خاموشی اختیار کر چکے ہیں صرف سعودی عرب وہ واحد ملک ہے جو عملاً کسی نہ کسی درجے میں فلسطین کی آزادی اور مستقل حیثیت کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔