سعودی عرب کے سابق سفیر برائے امریکہ اور ماضی میں انٹیلیجنس سروسز کے سربراہ رہنے والے شہزادہ ترکی الفیصل نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے، جس میں انہوں نے امریکہ کی جانب سے غزہ پر کنٹرول حاصل کرنے اور وہاں کے فلسطینیوں کو جبراً بے دخل کرنے کی تجویز دی تھی۔
شہزادہ ترکی نے ٹرمپ کے اس منصوبے کو نسلی تطہیر (Ethnic Cleansing) قرار دیا اور خبردار کیا کہ اگر یہ عمل کیا گیا تو اس کے نتیجے میں شدید خونریزی اور عالمی سطح پر عدم استحکام پیدا ہوگا۔
ٹرمپ کا متنازعہ بیان اور اس پر عالمی ردعمل
شہزادہ ترکی الفیصل نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے معروف اینکر کرسٹیان امان پور کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ کے اس دعوے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ غزہ کو اپنے کنٹرول میں لے کر اسے مشرق وسطیٰ کا ریویرا بنا سکتا ہے۔
شہزادہ ترکی نے اس تجویز کو پاگل پن پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نہ صرف غیر حقیقت پسندانہ ہے بلکہ عالمی قوانین اور انسانی حقوق کے اصولوں کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کی پچھلی حکومتیں ہمیشہ دو ریاستی حل (Two-State Solution) کی حمایت کرتی رہی ہیں، جس کے تحت اسرائیل اور فلسطین کو امن کے ساتھ اپنے اپنے علاقوں میں رہنے کا حق دیا جاتا تھا۔
مگر ٹرمپ کا یہ منصوبہ اسرائیل کے ان انتہا پسند سیاستدانوں کے ایجنڈے سے متاثر معلوم ہوتا ہے، جو فلسطینیوں کے مکمل اخراج اور غزہ کو خالی کرانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
اتمار بن گویر اور اسرائیلی انتہا پسندی
شہزادہ ترکی نے خاص طور پر اسرائیلی سیاستدان اتمار بن گویر (Itamar Ben-Gvir) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کے بیانات میں ان کی پالیسی کی جھلک نظر آتی ہے۔
بن گویر وہی انتہا پسند وزیر ہیں، جنہوں نے حال ہی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے پر ناراض ہو کر اپنی قومی سلامتی کی وزارت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
شہزادہ ترکی نے بن گویر کو حتمی نسل کشی کا حامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کا موجودہ موقف دراصل امریکی حکومت کی مکمل اسرائیلی حمایت کا مظہر ہے، جو عالمی سفارتی اصولوں کے برعکس ہے۔
فلسطین کا اصل مسئلہ: اسرائیلی قبضہ
سعودی شہزادہ نے واضح الفاظ میں کہا کہ فلسطین میں اصل مسئلہ وہاں کے عوام نہیں بلکہ اسرائیلی قبضہ ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ جب تک اسرائیل کی غیر قانونی توسیع پسندی ختم نہیں ہوتی، تب تک فلسطین میں حقیقی امن کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے کہا،اگر اسرائیل فلسطینی عوام کو مسلسل دبائے گا، انہیں ان کے گھروں سے بے دخل کرے گا، ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گا، ان کے شہروں کو کھنڈرات میں بدلے گا اور ان کا قتل عام کرے گا، تو اس کا نتیجہ صرف اور صرف مزید بغاوت اور انتقام کی صورت میں نکلے گا۔
یہی وجہ ہے کہ اسرائیل اب براہ راست نسل کشی کے ذریعے فلسطینی عوام کو ان کے علاقوں سے نکالنے کی کوشش کر رہا ہے، اور بدقسمتی سے اب یہی پالیسی ٹرمپ کی زبان سے سننے کو مل رہی ہے۔
عرب اور مسلم ممالک کا ممکنہ ردعمل
شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا کہ ٹرمپ کے اس غیر انسانی منصوبے کے خلاف نہ صرف عرب اور مسلم دنیا بلکہ پوری عالمی برادری کو سخت مؤقف اختیار کرنا ہوگا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی تنظیمیں اس پاگل پن پر مبنی نسل کشی کے منصوبے کے خلاف سخت ردعمل دیں گی۔
انہوں نے مزید کہا،یہ ایک خام خیالی ہے کہ اکیسویں صدی میں نسل کشی کو عالمی برادری برداشت کر لے گی اور خاموش تماشائی بنی رہے گی۔
سعودی عرب کا سخت ردعمل اور مستقبل کی حکمت عملی
سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے بھی ٹرمپ کے بیان کی سخت مذمت کرتے ہوئے فلسطینی عوام کے جبری انخلا کو مسترد کر دیا ہے۔
وزارت نے اعلان کیا کہ سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے تب تک تیار نہیں جب تک کہ ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم نہیں کی جاتی، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہوگا۔
شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا کہ یہ موقف نہ صرف سعودی حکومت بلکہ پوری مسلم دنیا کا دیرینہ اصولی مؤقف ہے۔ انہوں نے ٹرمپ کی پالیسی کو عالمی انصاف اور انسانی حقوق کے خلاف قرار دیا۔
ٹرمپ کے سعودی عرب دورے کے ممکنہ اثرات
ڈونلڈ ٹرمپ، جو اپنی صدارت کے دوران سعودی عرب کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے کے لیے مشہور تھے، اگر دوبارہ سعودی عرب کا دورہ کرتے ہیں، تو انہیں شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
شہزادہ ترکی نے عندیہ دیا کہ سعودی قیادت ٹرمپ کو ان کے اس منصوبے کے ناانصافی اور غیر معقولیت کے بارے میں دو ٹوک انداز میں جواب دے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ حال ہی میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکہ میں 600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا، جو دونوں ممالک کے تعلقات کی مضبوطی کی نشانی ہے۔ لیکن اس کے باوجود، فلسطین کے مسئلے پر سعودی عرب کی پالیسی کسی بھی قسم کی مصلحت پسندی سے بالاتر ہے۔
نسلی تطہیر کے نتیجے میں مزید جنگ و جدل
شہزادہ ترکی الفیصل نے خبردار کیا کہ ٹرمپ کا یہ منصوبہ خطے میں مزید جنگ اور تباہی کا سبب بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینی عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم، غزہ میں جاری تباہی، اور قتل و غارت گری صرف اور صرف حماس اور دیگر مزاحمتی گروپوں کی حمایت میں اضافہ کرے گی۔
انہوں نے کہا،اگر آپ کسی قوم کو ظلم و جبر کے ذریعے مٹانے کی کوشش کریں گے، تو وہ مزید طاقت کے ساتھ ابھرے گی۔ یہی تاریخ ہمیں سکھاتی ہے اور یہی آج فلسطین میں ہو رہا ہے۔
عالمی برادری کے لیے ایک کھلا پیغام
شہزادہ ترکی الفیصل نے عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ٹرمپ کی غیر انسانی اور ظالمانہ پالیسی کے خلاف آواز بلند کریں۔
انہوں نے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ صرف اسرائیل اور حماس کے درمیان تنازع نہیں، بلکہ ایک تاریخی اور انسانی حقوق کا مسئلہ ہے، جسے اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو حل کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا،اگر دنیا واقعی انصاف پر یقین رکھتی ہے، تو اسے فلسطینی عوام کے حق میں کھڑا ہونا ہوگا اور اسرائیل کے غیر قانونی قبضے کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔
شہزادہ ترکی الفیصل کے یہ بیانات ایک واضح سفارتی پیغام ہیں کہ سعودی عرب اور مسلم دنیا فلسطینی عوام کے حق میں کھڑی ہے اور کسی بھی ایسے منصوبے کو قبول نہیں کرے گی، جو ان کے بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہو۔
ٹرمپ کی یہ پالیسی نہ صرف عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ خطے میں مزید بدامنی اور تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔