سعودی عرب نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے اس بیان کو سختی سے مسترد کر دیا ہے، جس میں انہوں نے فلسطینی عوام کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کی بات کی تھی۔
سعودی وزارت خارجہ نے بیان میں کہا کہ یہ بیانات اسرائیلی افواج کی جانب سے غزہ میں کیے جانے والے جرائم، بشمول نسل کشی، سے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہیں۔
مملکت نے واضح کیا کہ فلسطینی عوام کا اپنی زمین پر ایک ناقابلِ تردید حق ہے اور انہیں ایسے اجنبیوں کی طرح نہیں سمجھا جا سکتا جنہیں اسرائیل کی مرضی سے نکالا جا سکے۔
سعودی بیان میں مزید کہا گیا کہ اس طرح کے انتہا پسندانہ نظریات رکھنے والے افراد اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں کہ فلسطینی عوام کا اپنی سرزمین سے گہرا جذباتی، تاریخی اور قانونی تعلق ہے۔
سعودی عرب نے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی مظالم پر مختلف عرب اور مسلم ممالک کی جانب سے دی جانے والی مذمت اور مستردگی کو سراہا اور خطے کے اس متفقہ مؤقف کو اجاگر کیا کہ فلسطینی عوام کو ان کی زمین سے بے دخل کرنے کے کسی بھی منصوبے کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔
بیان میں اسرائیل پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ اسرائیل نے گزشتہ 75 سالوں سے نہ صرف فلسطینی عوام کے حقوق کو دبایا ہے بلکہ اس نے عرب ممالک کی جانب سے پیش کی گئی امن تجاویز کو بھی ہمیشہ مسترد کیا ہے۔
اس نے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے فلسطینی عوام کو مسلسل ناانصافی کا نشانہ بنایا ہے۔
سعودی حکومت نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینیوں کا حق ہمیشہ قائم رہے گا اور کوئی طاقت اسے ان سے چھین نہیں سکتی۔
مملکت کے مطابق مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب تمام فریق عقل و دانش سے کام لیں اور دو ریاستی حل کو تسلیم کریں۔
متعدد دیگر ممالک اور تنظیموں نے بھی نیتن یاہو کے بیان کی شدید مذمت کی ہے۔
مصر نے ان بیانات کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے سعودی خودمختاری کی براہ راست خلاف ورزی قرار دیا۔
مصری وزارت خارجہ نے یہ بھی واضح کیا کہ سعودی عرب کی سلامتی مصر کے لیے سرخ لکیر ہے اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے سعودی سرزمین کو تجویز کرنا ناقابل قبول ہے۔
اسی طرح، اردن کی وزارت خارجہ نے نیتن یاہو کے بیان کو اشتعال انگیز اور بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
اردنی وزارت خارجہ کے ترجمان سفیان قضاہ نے اسرائیل کی مسلسل اشتعال انگیز پالیسیوں کی مذمت کی اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے بیانات کے خلاف سخت موقف اختیار کرے جو علاقائی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
اردن نے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے بھی نیتن یاہو کے بیان کو قابل مذمت اور اشتعال انگیز قرار دیا۔
اماراتی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں اسرائیلی وزیر اعظم کے ریمارکس کو مسترد کرتے ہوئے سعودی عرب اور فلسطینی کاز کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اظہار کیا۔
خلیجی تعاون کونسل (GCC) نے بھی اسرائیلی وزیر اعظم کے بیان کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔
جی سی سی کے سیکرٹری جنرل جاسم البدایوی نے کہا کہ خلیجی ممالک سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہیں اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق، بشمول 1967 کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔
کویت کی وزارت خارجہ نے بھی نیتن یاہو کے بیان کو مسترد کر دیا اور سعودی عرب کی خودمختاری اور استحکام کے دفاع میں اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔
بحرین نے بھی اسرائیلی بیانات کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے سعودی سرزمین کی تجویز دینا بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
قطر نے بھی اسرائیلی وزیر اعظم کے بیان کی مذمت کی اور اسے اشتعال انگیز قرار دیا۔
قطر، جو کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی مذاکرات میں ایک اہم ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، نے واضح کیا کہ وہ ایسے کسی بھی منصوبے کو تسلیم نہیں کرے گا جو فلسطینی خودمختاری کو مجروح کرے۔