سعودی کابینہ کا اجلاس ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی صدارت میں ریاض میں منعقد ہوا۔
جس میں مختلف علاقائی اور بین الاقوامی امور، داخلی ترقیاتی منصوبوں، اقتصادی اصلاحات، اور مختلف ممالک کے ساتھ سفارتی معاہدوں پر غور کیا گیا۔
اجلاس کے دوران، اہم سیاسی اور اقتصادی امور پر تفصیلی بحث کی گئی، جبکہ مملکت کے اندر جاری ترقیاتی اقدامات اور مستقبل کی حکمت عملی پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
کابینہ نے فلسطینی عوام کے حق میں اپنا مضبوط موقف دہراتے ہوئے، انتہا پسند اسرائیلی بیانات کی سختی سے مذمت کی، جو فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی اور خطے میں مزید عدم استحکام کا سبب بن سکتے ہیں۔
کابینہ نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب کے لیے فلسطینی مسئلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور مملکت ہمیشہ فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت جاری رکھے گی۔
اجلاس میں کہا گیا کہ مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن صرف اس وقت ممکن ہو سکتا ہے جب تمام فریقین پرامن بقائے باہمی کو تسلیم کریں اور دو ریاستی حل کو عملی جامہ پہنایا جائے، جو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہو۔
اجلاس کے آغاز میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کابینہ کو اردن کے بادشاہ شاہ عبداللہ دوم اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کے ساتھ اپنی حالیہ گفتگو کے بارے میں آگاہ کیا۔
ان بات چیت میں خطے کی تازہ ترین صورت حال، امن و استحکام، اور دونوں ممالک کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
کابینہ نے سعودی عرب اور مختلف ممالک کے درمیان قائم مشترکہ کمیٹیوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا اور باہمی تعلقات کو مزید وسعت دینے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کو سراہا۔
اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ سعودی عرب کی خارجہ پالیسی کی بنیاد عالمی سطح پر تعلقات کے استحکام، مشترکہ مفادات، اور مختلف ممالک کے ساتھ تجارتی و اقتصادی شراکت داری کو فروغ دینا ہے۔
کابینہ نے انسداد بدعنوانی کے میدان میں سعودی عرب کی نمایاں کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے، انسداد بدعنوانی سے متعلق بین الاقوامی ایسوسی ایشن (IAACA) کی ایگزیکٹو کمیٹی میں مملکت کے انتخاب کو بین الاقوامی برادری کی جانب سے سعودی عرب کی قیادت اور عالمی سطح پر اس کی اہمیت کا اعتراف قرار دیا۔
اس موقع پر، کابینہ نے کرپشن کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کے اقدامات، شفافیت کے فروغ، اور گورننس کی بہتری کے لیے کی جانے والی اصلاحات کو مزید تیز کرنے پر بھی زور دیا۔
اجلاس کے دوران مختلف ممالک کے ساتھ ہونے والے معاہدوں اور(MoUs) کی منظوری دی گئی، جن میں سعودی عرب اور اردن کے درمیان منشیات کی غیر قانونی اسمگلنگ اور اس کے انسداد کے حوالے سے تعاون کا معاہدہ شامل ہے۔
یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی تعاون کو مزید مستحکم کرے گا اور منشیات کی لعنت کے خلاف مشترکہ کارروائی میں معاون ثابت ہوگا۔
سعودی عرب اور آرمینیا کے وزرائے خارجہ کو ایک مفاہمتی یادداشت پر بات چیت اور دستخط کرنے کی اجازت دی گئی، جو دونوں ممالک کے درمیان سیاسی مشاورت کو فروغ دے گی۔
سعودی عرب اور جزائر سلیمان کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا، جس کے تحت دونوں ممالک کے سفارتی، خصوصی، اور سرکاری پاسپورٹ رکھنے والوں کو قلیل مدتی ویزوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
سعودی عرب اور مراکش کے درمیان روایتی فنون کے شعبے میں تعاون کے لیے سعودی روایتی فنون کے شاہی ادارے اور مراکشی اکیڈمی آف ٹریڈیشنل آرٹس کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔
مالیاتی شعبے میں سعودی وزارت خزانہ اور قطری وزارت خزانہ کے درمیان ایک معاہدے کی منظوری دی گئی، جو دونوں ممالک کے درمیان مالیاتی امور میں ہم آہنگی پیدا کرے گا اور باہمی اقتصادی ترقی میں معاون ثابت ہوگا۔
اسی طرح، سعودی وزارت معیشت و منصوبہ بندی اور عمانی وزارت معیشت کے درمیان اقتصادی منصوبہ بندی اور تعاون کے لیے ایک معاہدہ کیا گیا، جو دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا۔
سعودی عرب اور مالدیپ کی وزارتوں کے درمیان تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے بھی ایک معاہدہ کیا گیا۔
جبکہ سعودی عرب اور سربیا کے درمیان آمدنی اور سرمایہ پر دوہرے ٹیکس سے بچاؤ اور ٹیکس چوری کی روک تھام کے معاہدے کی منظوری دی گئی۔
سعودی عرب اور مصر کے درمیان خلیج عقبہ میں بحری مسافروں کی آمد و رفت کے حوالے سے ایک مفاہمتی یادداشت پر بھی اتفاق کیا گیا۔
جبکہ سعودی قومی مرکز برائے موسمیات اور برطانوی میٹ آفس کے درمیان موسمیاتی تعاون سے متعلق معاہدہ بھی طے پایا، جو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے میں مدد فراہم کرے گا۔
کابینہ نے سعودی مرکزی بینک اور ترکی کے مرکزی بینک کے درمیان مرکزی بینکاری کے شعبے میں تعاون کے لیے ایک معاہدے کی بھی منظوری دی، جس سے دونوں ممالک کے مالیاتی شعبے میں مزید بہتری آئے گی۔
داخلی سطح پر، کابینہ نے سعودی عرب میں جاری ترقیاتی منصوبوں، اقتصادی اصلاحات، اور مختلف ابھرتے ہوئے شعبوں کی ترقی پر تبادلہ خیال کیا۔
اس سلسلے میں، شاہ سلمان آٹوموٹیو کلسٹر کے آغاز کو ایک بڑا اقدام قرار دیا گیا، جو اقتصادی تنوع، غیر تیل جی ڈی پی میں اضافے، اور قومی صنعتی ترقی و لاجسٹکس پروگرام کے اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گا۔
کابینہ نے مالیاتی استحکام کے پروگرام کے نفاذ کے منصوبے کی تکمیل کو بھی سراہا، جو اخراجات کی کارکردگی کو بہتر بنانے، آمدنی میں اضافہ کرنے، اور منصوبہ بندی کی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے میں مددگار ہوگا۔
یہ پروگرام سعودی وژن 2030 کے مطابق اقتصادی اصلاحات اور ساختی تبدیلیوں کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے، جو مملکت کی مالی پوزیشن اور معیشت کو مزید مستحکم کرے گا۔
مزید برآں، اجلاس میں سیاسی و سیکیورٹی امور کی کونسل، اقتصادی و ترقیاتی امور کی کونسل، کابینہ کی جنرل کمیٹی، اور کابینہ کے بیورو آف ایکسپرٹس کی ہونے والی مشاورت کے نتائج پر بھی غور کیا گیا۔
کابینہ نے پبلک پراسیکیوشن قانون کے آرٹیکل 4 کی شق 1 اور ایڈمنسٹریٹو جوڈیشری کونسل سے متعلق بورڈ آف گریوینسز قانون کے آرٹیکل 4 میں ترمیم کی منظوری دی، جس کے تحت دونوں کونسلوں میں ماہر اور تجربہ کار اراکین کو شامل کیا جائے گا تاکہ ان اداروں کی کارکردگی میں مزید بہتری لائی جا سکے۔
آخر میں، کابینہ نے قومی جانشینی اور قیادت کی ترقی کے پروگرام کی منظوری دی، جس کا مقصد سرکاری اور نجی اداروں میں قیادت کے تسلسل کو یقینی بنانا اور مستقبل کے لیڈرز کی تربیت کرنا ہے۔