اسرائیلی فوج کی شام میں فوجی کارروائیاں ایک ماہ سے زائد عرصے سے جاری ہیں، اور حالیہ دنوں میں قنیطرہ کے مختلف علاقوں میں اس کی پیش قدمی دیکھی گئی ہے۔
آج اسرائیلی فوج قنیطرہ کے جنوبی دیہی علاقے میں واقع الرفید قصبے میں داخل ہو چکی ہے۔
اطلاعات کے مطابق، اسرائیلی فوجیوں کو شام کے جنوب مغرب میں واقع اس قصبے کے مکانات کے درمیان گشت کرتے دیکھا گیا، جبکہ چند روز قبل عین النوریہ گاؤں میں بھی اسرائیلی فوجی دستے داخل ہوئے تھے۔
اس حالیہ فوجی کارروائی میں ایک نیا پہلو یہ دیکھنے میں آیا کہ اسرائیلی فوج نے مقامی آبادی کا سروے کیا۔
اس دوران، فوج نے قصبے کے رہائشیوں کے نام، ہر خاندان کے افراد کی تعداد اور ان کی بنیادی ضروریات کے بارے میں معلومات طلب کیں، گویا کہ مردم شماری کی جا رہی ہو۔
گزشتہ دو ماہ کے دوران، اسرائیلی فوج نے قنیطرہ اور درعا کے علاقوں میں اپنی کارروائیوں کو تیز کیا، اور کئی دیہات اور قصبوں میں داخل ہو کر وہاں کچھ وقت گزارنے کے بعد واپس چلی گئی۔
اسرائیل نے قنیطرہ میں دو فوجی اڈے تعمیر کیے، جنہیں ریتیلے راستوں کے ایک نیٹ ورک کے ذریعے شام کے مقبوضہ گولان کے پہاڑوں سے جوڑا گیا۔
سیٹلائٹ تصاویر سے معلوم ہوا ہے کہ اسرائیل تیسرے فوجی اڈے کے قیام کے لیے زمین ہموار کر چکا ہے۔
ڈیڑھ ماہ قبل، اسرائیلی فوج نے بفرزون میں داخل ہونے کا اعلان کیا تھا، اور اس کا دعویٰ تھا کہ یہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر کیا گیا ہے۔
اسرائیل کی جانب سے شام میں فوجی کمک بھیجی جا چکی ہے، اور وہاں مستقل فوجی اڈے بھی قائم کر لیے گئے ہیں۔
اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاتز نے وضاحت کی کہ ان کی فوج جبل الشیخ کے اسٹریٹیجک پہاڑی علاقے میں پیش قدمی کر رہی ہے، اور وہاں مستقل طور پر تعینات رہے گی۔
آٹھ دسمبر 2024 کو بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد، اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ گولان کی مقبوضہ پہاڑیوں میں 10 سے زائد مقامات پر اپنی فوجی پوزیشنیں قائم کر لی ہیں۔
یہ بفرزون 1974 سے اسرائیل اور شام کے علاقوں کے درمیان حد بندی کا کام کر رہا ہے۔
ادھر، اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس کارروائی کو دفاعی حکمتِ عملی کا ایک عارضی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام اسرائیل کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
تاہم، نیتن یاہو نے واضح کیا کہ اسرائیلی فوج سرحد پر مکمل سیکیورٹی ضمانت ملنے تک علاقے میں برقرار رہے گی۔