سعودی عرب نے چوتھے ریاض انٹرنیشنل ہیومینٹیرین فورم کے دوران پولیو کے عالمی خاتمے کے اقدام (GPEI) کے لیے اپنی 500 ملین ڈالر کی امداد کی تصدیق کی ہے۔
اس مہم کا مقصد لاکھوں بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانا اور اس بیماری کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہے۔
فورم میں عالمی صحت کے اہم رہنماؤں، جن میں کے ایس ریلیف کے سپروائزر جنرل ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ، عالمی ادارہ صحت (WHO) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس گیبریئس، یونیسف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل اور گیٹس فاؤنڈیشن کے چیئرمین بل گیٹس شامل تھے، نے پولیو کے خاتمے کے لیے جاری کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔
ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے کہا کہ سعودی عرب اس عالمی مہم میں اپنا کردار ادا کرنے پر فخر محسوس کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا یہ امداد آج کے معصوم بچوں کو تحفظ دینے اور آنے والی نسلوں کو پولیو سے محفوظ رکھنے میں مدد دے گی۔
1988 میں GPEI کے آغاز کے بعد سے پولیو کے کیسز میں 99 فیصد سے زائد کمی آئی ہے۔ 20 ملین سے زائد افراد، جو مفلوج ہو سکتے تھے، اب چلنے پھرنے کے قابل ہیں۔
تاہم، پاکستان، افغانستان، یمن اور صومالیہ جیسے جنگ زدہ علاقوں میں پولیو اب بھی ایک خطرہ بنا ہوا ہے۔
2024 میں، 25 سال بعد، فلسطینی علاقے غزہ میں پولیو کا ایک کیس رپورٹ ہوا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب تک پولیو مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا، دنیا بھر کے بچے خطرے میں رہیں گے۔
ڈاکٹر ٹیڈروس گیبریئس نے زور دیا کہ اگرچہ پولیو کے خاتمے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، لیکن آخری مرحلہ سب سے مشکل ہے۔
انہوں نے کہا سعودی عرب کی فراخدلانہ امداد ہمیں تنازعات اور مشکل علاقوں میں موجود بچوں تک پہنچنے میں مدد دے گی۔
بل گیٹس نے بتایا کہ ایک وقت تھا جب پولیو ہر سال 350,000 بچوں کو متاثر کرتا تھا، لیکن 2023 میں یہ تعداد صرف 12 تک پہنچ گئی۔
انہوں نے کہا ہم پولیو کے مکمل خاتمے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اس کے لیے عالمی سطح پر قیادت اور فنڈنگ کی ضرورت ہے۔
یونیسف کی کیتھرین رسل نے خبردار کیا کہ اگر ویکسینیشن کی شرح میں کمی آئی تو پولیو دوبارہ پھیل سکتا ہے۔
سعودی عرب جیسے پارٹنرز کی مدد سے، ہم ہر بچے تک زندگی بچانے والی ویکسین پہنچا سکتے ہیں اور ہمیشہ کے لیے پولیو کا خاتمہ کر سکتے ہیں،انہوں نے کہا۔
فورم کے دوران ایک نیا معاہدہ کیا گیا تاکہ عالمی سطح پر ویکسینیشن کی کوششوں کو مزید تقویت دی جا سکے۔
اس مہم کے تحت ہر سال 370 ملین بچوں کو ویکسین دی جائے گی اور وائرس کی منتقلی کو ہمیشہ کے لیے روکا جائے گا۔
سعودی عرب کی یہ امداد پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے GPEI کی 2022-2029 کی توسیعی حکمت عملی کا حصہ ہے، تاکہ دنیا کو اس بیماری سے ہمیشہ کے لیے نجات مل سکے۔