سعودی کابینہ نے عالمی امن و استحکام کے فروغ اور بین الاقوامی تنازعات کے حل کے لیے بات چیت کو واحد مؤثر راستہ قرار دیتے ہوئے مملکت کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
ریاض میں خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت ہونے والے کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس میں ملکی، علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس کے دوران ارکان کو ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی مختلف برادر اور دوست ممالک کے رہنماؤں سے ہونے والی ملاقاتوں سے آگاہ کیا گیا، جن میں خطے اور عالمی حالات پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
کابینہ نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کو سراہا، جس میں انہوں نے سعودی عرب کی جانب سے عالمی استحکام اور امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کی تعریف کی۔
سعودی وزیر اطلاعات نے اجلاس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کابینہ نے العلا انٹرنیشنل اکنامک کانفرنس کے کامیاب انعقاد کو سراہا۔
جو سعودی عرب اور عالمی مالیاتی فنڈ کے اشتراک سے منعقد کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ، کابینہ نے ریاض انٹرنیشنل ہیومینٹیرین فورم سے متعلق بھی امید ظاہر کی کہ یہ فورم عالمی سطح پر انسانی بحرانوں کے حل میں مزید مؤثر اقدامات کی راہ ہموار کرے گا۔
اجلاس میں سعودی عرب اور خلیج پیٹروکیمیکلز فیڈریشن کے درمیان ہونے والے معاہدے کی بھی منظوری دی گئی، جس کے تحت فیڈریشن کا صدر دفتر ریاض منتقل کیا جائے گا۔
کابینہ نے سعودی میڈیا فورم کے چوتھے ایڈیشن کے کامیاب انعقاد کو بھی سراہا۔
جس میں عالمی سطح پر نمایاں شرکت ہوئی اور میڈیا کے شعبے میں مختلف منصوبوں کا اعلان کیا گیا۔
مزید برآں، اجلاس میں مختلف امور کا جائزہ لیا گیا، جن میں شوریٰ کونسل کی سفارشات، سیاسی و امن عامہ، اقتصادی اور سماجی معاملات شامل تھے۔
سعودی کابینہ نے مختلف ممالک کے ساتھ تعاون کے فروغ کے لیے MOUs پر دستخط کی بھی منظوری دی۔
ان میں پولینڈ کی قومی لائبریری اور شاہ فہد لائبریری کے درمیان تعاون کی ہدایت شامل تھی۔ اسی طرح، مملکت اور تنزانیہ کے درمیان انسدادِ جرائم اور سول ڈیفنس کے شعبوں میں تعاون کے معاہدے پر دستخط کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔