سعودی عرب کے اٹارنی جنرل شیخ سعود المعجب نے ریاض میں پبلک پراسیکیوشن کے صدر دفتر میں اپنے بھارتی ہم منصب وینکٹے رامانی سے ملاقات کی۔
اس ملاقات میں عدالتی اور قانونی معاملات میں تعاون بڑھانے کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سعودی پریس ایجنسی (SPA) کے مطابق، شیخ سعود المعجب نے دونوں ممالک کے درمیان جوڈیشل شعبے میں قریبی تعلقات کی اہمیت پر زور دیا اور قانونی تعاون کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر روشنی ڈالی۔
ان کا کہنا تھا کہ عدالتی اور استغاثہ کے نظام میں مہارت کے تبادلے اور تکنیکی ترقی سے دونوں ممالک کو فائدہ پہنچے گا۔
بھارتی اٹارنی جنرل وینکٹے رامانی نے بھی اس موقع پر عدالتی نظام میں استغاثہ کے جدید طریقہ کار اور ٹیکنالوجی کے کردار پر تفصیلی پریزنٹیشن دی۔
اس پریزنٹیشن میں عدالتی عمل کو بہتر بنانے اور قانونی شعبے میں ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے مزید شفافیت اور کارکردگی کو بہتر بنانے پر زور دیا گیا۔
یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کی عکاسی کرتی ہے، جو مختلف شعبوں میں نمایاں پیش رفت کے ساتھ مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔
سعودی عرب اور بھارت نے حالیہ برسوں میں سیاسی، اقتصادی اور قانونی میدان میں قریبی تعلقات استوار کیے ہیں، اور یہ ملاقات ان تعلقات کے تسلسل کا ایک حصہ ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ رواں ماہ سعودی اٹارنی جنرل شیخ سعود المعجب نے مصر کے دورے کے دوران قاہرہ میں مصری پراسیکیوٹر جنرل محمد شوقی اور وزیر انصاف عدنان فنجری سے بھی ملاقات کی تھی۔
اس دورے میں قاہرہ اور ریاض کے درمیان جوڈیشل شعبے میں تعاون، قانونی تربیت کے فروغ اور گورننس کے بہتر طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سعودی اٹارنی جنرل کے حالیہ دورے اس بات کا ثبوت ہیں کہ سعودی عرب عالمی سطح پر قانونی تعاون کو فروغ دینے میں سنجیدہ ہے۔
بھارت اور مصر جیسے ممالک کے ساتھ جوڈیشل تعلقات کو مستحکم کرنا نہ صرف قانونی نظام کو بہتر بنائے گا بلکہ سرحد پار جرائم سے نمٹنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔
یہ ملاقاتیں ظاہر کرتی ہیں کہ سعودی عرب بین الاقوامی عدالتی نظام میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
قانونی ماہرین اور جوڈیشل اداروں کے درمیان قریبی روابط کا قیام مستقبل میں قانونی اصلاحات اور عدالتی معیار کو مزید بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔