سعودی وزارت خارجہ نے شام میں قومی مکالمہ کانفرنس کے انعقاد کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے اس کا خیرمقدم کیا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق، وزارت نے ایک بیان جاری کیا جس میں اس کانفرنس کو شامی عوام کے اتحاد کے فروغ اور ان کی امنگوں کے حصول میں مددگار قرار دیا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ مملکت شام کے ریاستی اداروں کی تعمیرِ نو، شہریوں کے لیے استحکام، خوشحالی اور امن کے قیام کے لیے مکمل تعاون جاری رکھے گی۔
سعودی عرب نے ایک بار پھر اپنے اصولی موقف کا اعادہ کیا کہ وہ شام کی خودمختاری، اتحاد، استحکام، اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
واضح رہے کہ شام کی نئی قیادت نے ملک میں ایک نئی حکمت عملی طے کرنے کے لیے 25 فروری سے قومی مکالمہ کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کیا تھا۔
اس کانفرنس کے انتظامی کمیٹی کے مطابق، گزشتہ ہفتے کے دوران تقریباً 4,000 افراد سے آئینی اصلاحات، معیشت کی بہتری، اور ادارہ جاتی ڈھانچے کے حوالے سے مشاورت کی گئی ہے۔
ہیئۃ التحریر الشام کے صدر احمد الشرع نے وضاحت کی کہ یہ کانفرنس ایک جامع سیاسی عمل کا حصہ ہے جس کا مقصد شام کے لیے ایک نیا آئینی مسودہ تیار کرنا ہے۔
ان کے مطابق، آئین کی تشکیل کا یہ عمل تین سال میں مکمل ہوگا جبکہ عام انتخابات چار برسوں میں منعقد کیے جائیں گے۔
کمیٹی کے ایک اور ممبر حسن دغیم نے بتایا کہ یہ کانفرنس ابتدائی طور پر دو روزہ ہوگی، تاہم اگر ضروری ہوا تو اس کا دورانیہ بڑھایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید امید ظاہر کی کہ آئندہ ماہ تک شام میں ایک نئی حکومت کے قیام کا امکان ہے، جو کہ ملک میں استحکام اور سیاسی تبدیلی کے عمل کا ایک بڑا قدم ثابت ہوگا۔