ایڈل مین ٹرسٹ بیرومیٹر 2025 کے مطابق، سعودی عرب کی حکومت کو دنیا کی سب سے زیادہ قابل اعتماد حکومت قرار دیا گیا ہے، جس نے 87 فیصد اعتماد کی شرح حاصل کی ہے۔
یہ نتیجہ مملکت کی مستحکم طرز حکمرانی، موثر پالیسیوں، اور وژن 2030 کے تحت کیے جانے والے اصلاحاتی اقدامات کی عکاسی کرتا ہے۔
سروے کے مطابق، سعودی شہریوں میں اپنے حکومتی نظام پر سب سے زیادہ اعتماد پایا گیا، جو عالمی سطح پر کسی بھی ملک سے زیادہ ہے۔
اس اعتماد کی سطح گزشتہ سال کے 86 فیصد سے بڑھ کر 87 فیصد تک پہنچ گئی، جو ایک اور سنگ میل ہے۔
اس کے برعکس، دیگر بڑی معیشتوں میں حکومتی اعتماد کی شرح کم رہی، جیسے کہ امریکہ 47 فیصد، برطانیہ 43 فیصد، اور جرمنی 41 فیصد پر رہے۔
سروے میں چین 83 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا، جبکہ متحدہ عرب امارات 82 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر آیا۔
بھارت نے تین پوائنٹس کا اضافہ کرتے ہوئے 79 فیصد کے ساتھ چوتھی پوزیشن حاصل کی، اور سنگاپور 77 فیصد پر پانچویں نمبر پر برقرار رہا۔
دوسری جانب، جرمنی کو سات پوائنٹس کی کمی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد وہ 35 فیصد اعتماد کے ساتھ 26ویں نمبر پر چلا گیا۔
سعودی عرب نے نہ صرف حکومتی اعتماد میں سبقت حاصل کی بلکہ مستقبل کے حوالے سے امید کی فضا میں بھی دنیا میں سب سے آگے رہا۔
69 فیصد سعودی شہریوں کا ماننا ہے کہ اگلی نسل کو پہلے سے بہتر معیارِ زندگی میسر ہوگا، جبکہ بیشتر دیگر ممالک میں یہ شرح 50 فیصد سے بھی کم رہی۔
یہ مثبت نقطہ نظر وژن 2030 کے اہداف اور پائیدار ترقی کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔
ایڈل مین ٹرسٹ بیرومیٹر، جو دنیا میں عوامی اعتماد کے حوالے سے سب سے جامع سالانہ رپورٹ سمجھی جاتی ہے، ایک امریکی کمیونیکیشن فرم ایڈل مین کے ذریعے منعقد کی جاتی ہے۔
اس تحقیق میں 28 ممالک کے 33,000 سے زائد افراد سے آراء لی گئیں، جہاں ہر ملک سے تقریباً 1,150 افراد شامل تھے۔
اکتوبر 25 سے نومبر 16 کے دوران کیے گئے اس سروے میں حکومتوں، کاروباری اداروں، میڈیا اور غیر سرکاری تنظیموں (NGOs) پر اعتماد کی سطح اور مختلف سماجی و سیاسی امور پر عوامی رائے کو جانچا گیا۔
یہ رپورٹ نہ صرف ادارہ جاتی اعتماد کے رجحانات کو ظاہر کرتی ہے بلکہ عالمی سطح پر سیاسی اور سماجی تبدیلیوں، قیادت کے چیلنجز، اور ابھرتے ہوئے عالمی رجحانات کو سمجھنے میں بھی مدد فراہم کرتی ہے۔