سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے بتایا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران اقامہ، ورک پرمٹ اور سرحدی قوانین کی خلاف ورزیوں پر ملک بھر میں 17 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا۔
یہ کارروائیاں 20 فروری سے 26 فروری کے درمیان مختلف خطوں میں کی گئیں، جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے غیر قانونی مقیم افراد، بغیر اجازت کام کرنے والوں اور سرحد عبور کرنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف وسیع پیمانے پر چھاپے مارے۔
وزارت داخلہ کے مطابق، گرفتار ہونے والوں میں سے 10,397 افراد اقامہ اور رہائشی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پائے گئے، جبکہ 2,864 افراد کو ورک پرمٹ کے ضوابط کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا۔
مزید برآں، سرحدی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے 4,128 افراد کو پکڑا گیا۔
اس دوران 1,483 افراد کو غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے کی کوشش کے دوران گرفتار کیا گیا، جن میں 41 فیصد یمنی، 56 فیصد ایتھوپیائی جبکہ باقی دیگر قومیتوں کے افراد شامل تھے۔
اسی طرح، 104 افراد کو غیر قانونی طور پر سعودی عرب سے باہر جانے کی کوشش کرتے ہوئے پکڑا گیا۔
مزید تحقیقات کے دوران 15 ایسے افراد کو بھی حراست میں لیا گیا جو غیر قانونی مقیم افراد کو پناہ دینے، ان کی نقل و حمل میں مدد فراہم کرنے یا ملازمت دینے میں ملوث پائے گئے۔
کارروائی کے دوران 31,463 افراد کو ضروری سفری دستاویزات حاصل کرنے کے لیے ان کے متعلقہ سفارتی مشنز میں بھیجا گیا، جبکہ 10,363 افراد کو ملک بدر کر دیا گیا۔
یہ مہم سعودی حکام کے اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ اقامہ، ورک پرمٹ اور سرحدی قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے مسلسل کارروائیاں جاری رکھیں گے تاکہ مملکت میں قانون کی بالادستی برقرار رہے۔