امریکی کمپنی ڈورونی ایروسپیس نے سعودی اداروں کے ساتھ شراکت داری کا اعلان کیا ہے تاکہ H1-X فلائنگ کار کی تیاری کی جا سکے۔
یہ دو نشستوں والا برقی ہوائی جہاز (eVTOL) خاص طور پر ذاتی استعمال کے لیے تیار کیا جا رہا ہے، جو دو کاروں کے گیراج میں پارک ہو سکتا ہے، گھر پر چارج کیا جا سکتا ہے اور گھر کے داخلی راستے سے عمودی پرواز کر سکتا ہے۔
اس منصوبے میں 30 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے جو کہ انویشن وِنگز انڈسٹریز (IWI) کی طرف سے فراہم کی گئی ہے، جو کنگڈم ایرو انڈسٹریز (KAI) کے طور پر سعودی عرب میں کام کر رہی ہے۔
معاہدے کے تحت، KAI ڈورونی ایروسپیس میں 40 فیصد حصص حاصل کرے گی، جو آئندہ سرمایہ کاری مراحل کے مکمل ہونے سے مشروط ہے۔
یہ سرمایہ کاری دو مرحلوں میں تقسیم کی گئی ہے، ابتدائی 5 ملین ڈالر معاہدہ طے پانے کے 30 دن کے اندر فراہم کیے جائیں گے، جبکہ باقی 25 ملین ڈالر اگلے دو سالوں میں ترقیاتی اہداف کی تکمیل سے مشروط ہوں گے۔
ڈورونی ایروسپیس کے سی ای او، ڈورون مرڈنگر نے کہا کہ یہ سرمایہ کاری ترقی، سرٹیفیکیشن، پیداوار، اور ایرو اسپیس ماہرین کی بھرتی کے عمل کو تیز کرے گی، تاکہ H1-X کو 2026 کے آخر تک مارکیٹ میں لانچ کیا جا سکے۔
اس معاہدے کے تحت، 2027 سے H1-X کی پیداوار سعودی عرب میں شروع کی جائے گی، اور KAI اس کی عالمی سطح پر تقسیم کا ذمہ دار ہوگا۔
KAI کے سی ای او اسمٰعیل کشکش، جو اب ڈورونی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں بھی شامل ہو گئے ہیں، نے اس شراکت داری کو عالمی سطح پر ایئر موبیلیٹی کے فروغ کا اہم سنگ میل قرار دیا۔
سعودی عرب جدید ٹرانسپورٹ ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کر رہا ہے، جو ویژن 2030 کا ایک حصہ ہے۔
اس منصوبے کا مقصد معیشت کو تیل پر انحصار سے ہٹ کر متنوع بنانا ہے۔
H1-X فلائنگ کار منصوبہ سعودی عرب کو ایرو اسپیس انڈسٹری میں عالمی مینوفیکچرنگ مرکز بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔