سعودی سینٹرل بینک (SAMA) نے مقامی بینکوں کو واٹس ایپ جیسے فوری پیغام رسانی کے ایپلیکیشنز کے ذریعے صارفین سے رابطہ کرنے سے روک دیا ہے۔
الشرق الاوسط اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ اقدام بینکاری نظام میں مضبوط سیکیورٹی یقینی بنانے اور غیر محفوظ چینلز کے استعمال سے بچنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
ساما نے مالیاتی اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ لائیو چیٹ یا چیٹ بوٹ جیسے محفوظ متبادل ذرائع تلاش کریں، جنہیں بینکنگ ایپلیکیشنز یا سرکاری ویب سائٹس میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
ان متبادل ذرائع کو ڈیٹا پروٹیکشن کے تقاضوں پر پورا اترنا ہوگا تاکہ صارفین کی معلومات محفوظ رہیں۔
تمام بینکوں کو اس فیصلے پر عمل درآمد کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ برانچ، مارکیٹنگ اور کسٹمر سروس کے ملازمین کو ان تبدیلیوں سے آگاہ کرنا ضروری ہوگا۔
بینکوں کی میڈیا اور آگاہی کمیٹی نے عوام کو ان دھوکہ دہی کے طریقوں سے خبردار کیا ہے، جن میں فراڈی لوگ خود کو خیراتی اداروں یا معروف شخصیات کے نمائندے ظاہر کرتے ہیں اور لوگوں کو مالی امداد کی پیشکش کرکے دھوکہ دیتے ہیں۔
یہ جعلساز جعلی دستاویزات اور مہریں استعمال کرکے لوگوں کو قائل کرتے ہیں کہ انہیں مالی امداد حاصل کرنے کے لیے کچھ رقم بطور فیس ادا کرنی ہوگی۔
کمیٹی نے واضح کیا کہ سرکاری ادارے کبھی بھی سوشل میڈیا یا میسجنگ ایپلیکیشنز کے ذریعے عطیات یا مالی امداد کی پیشکش نہیں کرتے۔
تاہم جعلساز ان پلیٹ فارمز کو استعمال کرکے لوگوں کو ورغلانے اور لوٹنے کی کوشش کرتے ہیں، اور مختلف حیلے بہانے بنا کر رقوم منتقلی پر مجبور کرتے ہیں۔
عرب نیشنل بینک میں فراڈ کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ ریما القحطانی نے کہا کہ کوئی بھی سرکاری ادارہ عطیات حاصل کرنے کے لیے فیس، بل کی ادائیگی یا بینفشری شامل کرنے کی درخواست نہیں کرتا۔
اسی طرح، میڈیا اور آگاہی کمیٹی کے سیکرٹری جنرل، رباح الشمائسی نے خبردار کیا کہ کسی بھی ایسی تنظیم کے جھانسے میں نہ آئیں جو کسی خدمت یا عطیے کے بدلے رقم طلب کرے۔
انہوں نے اس قسم کے فراڈ کے بڑھتے ہوئے کیسز پر تشویش کا اظہار کیا اور عوام پر زور دیا کہ وہ محتاط رہیں۔
مالیاتی دھوکہ دہی سے بچاؤ کے لیے صارفین کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سعودی بینکوں کے محفوظ ادائیگی کے نظام، SADAD کے ذریعے ادائیگیاں کریں۔
یہ نظام تمام بینکنگ ایپلیکیشنز میں موجود ہے اور محفوظ اور مستند لین دین کو یقینی بناتا ہے۔
اگر کسی کو دھوکہ دہی کا سامنا ہو تو اسے فوری طور پر اپنے بینک سے رابطہ کرنا چاہیے تاکہ رقم واپس حاصل کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا سکیں۔
یہ تمام اقدامات سعودی بینکوں کے قومی آگاہی مہمات کا حصہ ہیں، جو عوام کو فراڈ کے خطرات اور دھوکہ دہی کے طریقوں سے بچنے کے لیے تعلیم دینے پر مرکوز ہیں۔
ان مہمات کا مقصد مالی تحفظ کو بہتر بنانا اور صارفین کو دھوکہ دہی کی اسکیموں سے محفوظ رکھنا ہے۔