قصیم کے گورنر، شہزادہ فیصل بن مشعل نے جبیل-بریدة واٹر پائپ لائن منصوبے کے معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی، جو 8.5 ارب سعودی ریال کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا۔
اس موقع پر وزیر ماحولیات، پانی اور زراعت انجینئر عبدالرحمن الفضلی بھی موجود تھے۔
یہ وسیع پیمانے پر تعمیر ہونے والا منصوبہ مشرقی صوبے اور قصیم ریجن کو صاف شدہ پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے، شہزادہ فیصل بن مشعل نے کہا کہ یہ منصوبہ قصیم کی معیشت، زراعت اور صنعت کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
اس کے ذریعے مستحکم پانی کی ترسیل ممکن ہوگی، جو نہ صرف بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کو پورا کرے گی بلکہ وسائل کی پائیداری کو بھی یقینی بنائے گی۔
سعودی واٹر پارٹنرشپ کمپنی کے سی ای او، انجینئر خالد القریشی نے بتایا کہ یہ منصوبہ بلڈ-اون-اوپریٹ-ٹرانسفر (BOOT) ماڈل کے تحت سرمایہ کاروں کو پیش کیا گیا تھا۔
32 کمپنیوں (جن میں 14 سعودی کمپنیاں شامل تھیں) میں سے الجمیح انرجی اینڈ واٹر کمپنی، نسما لمیٹڈ کمپنی اور بحور انویسٹمنٹ کمپنی کے اتحاد کو اس منصوبے کی تکمیل کے لیے منتخب کیا گیا۔
القریشی نے مزید کہا کہ اس منصوبے کا تجارتی آپریشن 2029 کی دوسری سہ ماہی میں شروع ہونے کی توقع ہے، جس کے بعد 35 سالہ رعایتی معاہدہ نافذ ہوگا۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اس منصوبے کے ذریعے پانی کی ترسیلی کارکردگی کو بہتر بنایا جائے گا، بجلی کی کھپت کم کی جائے گی اور مشرقی و قصیم ریجن میں پینے کے پانی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کیا جائے گا۔
مزید برآں، اس منصوبے سے مقامی کاروباروں اور انسانی وسائل میں سعودائزیشن کے فروغ کے ذریعے مقامی مواد کی ترقی کو بھی تقویت ملے گی۔
یہ پائپ لائن 587 کلومیٹر طویل ہوگی اور روزانہ 6,50,000 مکعب میٹر پانی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اس منصوبے کی ایک خاص بات اس کا ریورس پمپنگ سسٹم ہے، جس کے ذریعے الشماسية گورنری کے راستے قلیب سے جبیل شہر تک پانی کی ترسیل ممکن ہوگی۔
اس نظام سے پانی کی مستقل فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا، جو مملکت کے پانی کے تحفظ کے منصوبوں کے مطابق ہے۔
اس اہم واٹر پائپ لائن منصوبے کے ساتھ ساتھ، شہزادہ فیصل بن مشعل نے قصیم ریجن میں قومی پارکس میں کمیونٹی فارمنگ منصوبہ شروع کرنے کی بھی ہدایت دی۔
یہ اقدام زرعی کمپنیوں، نجی شعبے اور مقامی شہریوں کے اشتراک سے متعارف کرایا گیا ہے، جس کا مقصد خطے میں سبزہ زار کو فروغ دینا اور ماحولیاتی پائیداری کو یقینی بنانا ہے۔
یہ زرعی منصوبہ گرین قصیم لینڈ اقدام کا حصہ ہے، جو "گرین سعودی عرب پروگرام کے اہداف سے منسلک ہے۔
اس اقدام کے تحت قابل تجدید پانی کے ذریعے زرعی سرگرمیوں کو جاری رکھا جائے گا، جس سے سعودی عرب میں طویل مدتی ماحولیاتی تحفظ کی کوششوں کو تقویت ملے گی۔