سعودی عرب نے اگلے ہفتے جدہ میں امریکہ اور یوکرین کے درمیان ایک اہم اجلاس کی میزبانی کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔
یہ اجلاس عالمی سطح پر جاری سفارتی کوششوں کا حصہ ہے، جس کا مقصد یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے ایک امن فریم ورک تشکیل دینا ہے۔
سعودی وزارتِ خارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ مملکت ایسے مذاکرات اور سفارتی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گی جو یوکرین میں پائیدار امن کے قیام میں مددگار ثابت ہوں۔
گزشتہ تین سالوں میں، سعودی عرب نے کئی اہم اجلاسوں کی میزبانی کی ہے، جن کا مقصد یوکرین اور روس کے تنازع کو حل کرنے میں مدد فراہم کرنا تھا۔
یہ حالیہ پیشرفت مملکت کی بین الاقوامی سطح پر امن مذاکرات کو فروغ دینے کی کوششوں کا تسلسل ہے۔
دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے کل تصدیق کی کہ یوکرینی حکام کے ساتھ اجلاس کے انعقاد پر بات چیت جاری ہے۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے، وٹکوف نے کہا کہ یہ اجلاس ریاض یا جدہ میں ہوسکتا ہے، جو ایک بڑے سفارتی عمل کا حصہ ہوگا جس کا مقصد جنگ بندی اور امن معاہدے کے لیے فریم ورک تیار کرنا ہے۔
ان مذاکرات میں مزید تیزی اس وقت آئی جب یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے جمعرات کو اعلان کیا کہ وہ پیر کے روز سعودی عرب کا دورہ کریں گے، جہاں ان کی ملاقات سعودی ولی عہد اور وزیرِاعظم شہزادہ محمد بن سلمان سے ہوگی۔
زیلنسکی نے اپنے X (سابقہ ٹویٹر) اکاؤنٹ پر ایک بیان میں کہا کہ وہ سعودی قیادت سے ملاقات کے بعد اپنی ٹیم کو سعودی عرب میں چھوڑیں گے تاکہ وہ امریکی حکام کے ساتھ مذاکراتی عمل جاری رکھ سکیں۔
یہ سفارتی پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 28 فروری کو وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ اور زیلنسکی کے درمیان کشیدہ جملوں کا تبادلہ ہوا تھا۔
تاہم، اختلافات کے باوجود، دونوں ممالک نے دوبارہ مذاکرات شروع کیے ہیں، جن میں یوکرین کے معدنی وسائل سے متعلق ایک ریونیو شیئرنگ معاہدہ بھی شامل ہے۔
منگل کے روز امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ انہیں زیلنسکی کی جانب سے ایک خط موصول ہوا ہے، جس میں امن مذاکرات میں شامل ہونے کی رضامندی ظاہر کی گئی ہے۔
ٹرمپ نے کہا: مجھے زیلنسکی کا ایک خط موصول ہوا ہے، جس میں انہوں نے واضح طور پر لکھا ہے کہ وہ جلد از جلد مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے تیار ہیں۔