سعودی عرب کے الشرقیہ ریجن کے نو ہونہار طلبہ نے امریکہ میں منعقد ہونے والے انٹرنیشنل سائنس اینڈ انجینئرنگ فیئر میں سعودی ٹیم کا حصہ بننے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔
ان طلبہ کا انتخاب ریاض میں ہونے والے ایک سخت قومی مقابلے کے دوران کئی مراحل پر مشتمل جانچ کے بعد کیا گیا، جہاں ان کی سائنسی مہارتوں، تحقیقی کاموں اور جدید خیالات کو پرکھا گیا۔
یہ باصلاحیت طلبہ اب عالمی سطح پر سعودی عرب کی نمائندگی کریں گے اور انٹرنیشنل فیئر میں شرکت کے دوران کنگ عبدالعزیز فاؤنڈیشن موھبہ اور وزارت تعلیم کا وقار بلند کریں گے۔
الشرقیہ کے محکمہ تعلیم کے ڈائریکٹر جنرل سامی العتیبی نے ان طلبہ کی کامیابی کو مملکت کی جانب سے تعلیم کے شعبے میں کی جانے والی سرمایہ کاری اور نوجوانوں کی ذہنی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے عزم کا مظہر قرار دیا ہے۔
سعودی عرب کی بین الاقوامی سائنسی مقابلوں میں شرکت کی تاریخ 2007 سے جڑی ہوئی ہے، جب مملکت نے پہلی بار ریجنیرون انٹرنیشنل سائنس اینڈ انجینئرنگ ایگزیبیشن میں حصہ لیا تھا۔
اس کے بعد سے نیشنل پروگرام فار گفٹیڈ آئیڈینٹیفیکیشن کے تحت منتخب ہونے والے باصلاحیت طلبہ مختلف بین الاقوامی سائنسی مقابلوں میں اپنی مہارتوں کا لوہا منواتے رہے ہیں۔
یہ کامیابی نہ صرف سعودی طلبہ کی علمی صلاحیتوں کی عکاسی کرتی ہے بلکہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ سعودی عرب تعلیمی میدان میں عالمی معیار کو اپنانے اور سائنسی تحقیق میں اپنی موجودگی کو مزید مستحکم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
عالمی مقابلے میں شرکت کرنے والے طلبہ اپنے منفرد سائنسی منصوبے اور اختراعات پیش کریں گے، جس سے نہ صرف ان کے علم میں اضافہ ہوگا بلکہ وہ جدید تحقیق کے میدان میں نئی راہیں بھی ہموار کریں گے۔