جدہ میں ہونے والے اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے غیر معمولی وزارتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی اور ان پر زبردستی ایسے حل مسلط کرنے کی کوششوں کو سختی سے مسترد کیا جو ان کے حق خود ارادیت کے خلاف ہوں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی سنگین نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ غزہ میں پائیدار جنگ بندی کو یقینی بنانا ناگزیر ہے اور اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر جوابدہ ٹھہرانا ضروری ہے۔
شہزادہ فیصل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سعودی عرب فلسطینی تنازعے کے منصفانہ حل کے لیے دو ریاستی حل کے اتحاد (Two-State Solution Coalition) کے ذریعے اپنے شراکت دار ممالک کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔
علاوہ ازیں، سعودی وزیر خارجہ نے شام کی اسلامی تعاون تنظیم (OIC) میں دوبارہ شمولیت کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ شام اس تنظیم کے مقاصد میں مثبت کردار ادا کرے گا۔
اس اجلاس میں او آئی سی کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طہ، کیمرون کے وزیر خارجہ لوگن ایمبیلا ایمبیلا، گیمبیا کے وزیر خارجہ مامادو تانگارا اور فلسطین کے وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد مصطفیٰ سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔
او آئی سی کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طہ نے غزہ کی تعمیر نو کے لیے عرب سربراہی اجلاس میں منظور شدہ منصوبے پر فوری عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کے لیے ایک مکمل اور پائیدار دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے مالی اور سیاسی وسائل کو متحرک کرنا ناگزیر ہے۔
انہوں نے فلسطینی عوام کو درپیش مسلسل مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے اسرائیلی قبضے، غیر قانونی بستیوں کی تعمیر، جبری انضمام، جبری بے دخلی اور روزانہ ہونے والے جرائم کی مذمت کی۔
انہوں نے اسرائیل کی جانب سے القدس (یروشلم) کو یہودیانے کی کوششوں، مقدس مقامات کی بے حرمتی، محاصرے، بھوک، بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور فلسطینی شہروں، کیمپوں، بنیادی ڈھانچے اور گھروں کی تباہی کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔
مزید برآں، انہوں نے اسرائیل کی جانب سے فلسطینی پناہ گزینوں کے مسئلے کو ختم کرنے کی کوششوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
اور اس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی (UNRWA) فلسطینی مہاجرین کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ایک ناگزیر ادارہ ہے۔
او آئی سی کے سیکرٹری جنرل نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری اقدامات کرے تاکہ ایک مستقل جنگ بندی نافذ ہو۔
اسرائیلی قابض افواج مکمل طور پر واپس چلی جائیں، انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور بے گھر فلسطینیوں کو ان کے گھروں میں واپس بھیجا جائے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فلسطینی حکومت کو اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے قابل بنایا جائے اور غزہ، مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم سمیت تمام فلسطینی علاقوں کی وحدت کو برقرار رکھا جائے۔