ریاض ایئر نے ہوا بازی کی صنعت میں خواتین کی شمولیت کو فروغ دینے کے لیے ایک تاریخی قدم اٹھایا ہے، جو نہ صرف صنفی مساوات کو آگے بڑھانے کی علامت ہے بلکہ سعودی وژن 2030 کے اہداف کو عملی جامہ پہنانے کا ایک اہم اقدام بھی ہے۔
خواتین کے عالمی دن کے موقع پر یہ ایئرلائن، جو سال کے آخر میں اپنی سروس کا آغاز کرے گی، ایک جدید اور اعلیٰ معیار کی ایئرلائن بننے کے ساتھ ساتھ ایک ایسی صنعت میں خواتین کے لیے نئے دروازے کھول رہی ہے جس پر روایتی طور پر مردوں کی اجارہ داری رہی ہے۔
اس پیش رفت کی ایک بہترین مثال ریاض ایئر کا ایئرکرافٹ مینٹیننس انجینئرنگ پروگرام ہے، جس میں پہلی مرتبہ 27 باصلاحیت خواتین کو شامل کیا گیا ہے۔
یہ وہ خواتین ہیں جو ہزاروں امیدواروں میں سے منتخب کی گئی ہیں، اور ان کا انتخاب یہ ثابت کرتا ہے کہ ایئرلائن خواتین کو بااختیار بنانے کے اپنے وعدے پر عمل پیرا ہے۔
مکہ سے تعلق رکھنے والی شہد السلمی، جو کہ 24 سالہ فزکس گریجویٹ ہیں، نے اپنے تجربے کو ایک انوکھا موقع قرار دیا۔
وہ کہتی ہیں، ہر روز جب میں کلاس میں جاتی ہوں اور ایئرکرافٹ کو قریب سے دیکھتی ہوں، تو یہ ایک ایسا لمحہ ہوتا ہے جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔
ریاض ایئر کا یہ اقدام، خاص طور پر ہمارے سی ای او ٹونی ڈگلس کی سوچ، ہمیں مسلسل حوصلہ دیتی ہے کہ کچھ بھی ناممکن نہیں۔
اس پروگرام کا مقصد خواتین کے لیے نئے مواقع پیدا کرنا ہے، جو ایک انقلابی قدم ہے۔
جدہ کی 19 سالہ حالہ الزہرانی، جو اس پروگرام کا حصہ بننے والی سب سے کم عمر خواتین میں شامل ہیں، کا کہنا ہے کہ یہ تجربہ ان کے لیے زندگی بدل دینے والا ہے۔
ان کے مطابق، ایک ایسی فیلڈ میں قدم رکھنا جہاں خواتین کی موجودگی نہ ہونے کے برابر تھی، ایک حوصلہ مند تجربہ ہے۔
ہم نہ صرف اپنے لیے بلکہ آئندہ نسلوں کے لیے بھی ایک نئی راہ ہموار کر رہی ہیں۔ کسی بھی صنعت میں خواتین کی شمولیت ایک تاریخی لمحہ ہوتا ہے، اور مجھے فخر ہے کہ میں اس کا حصہ ہوں۔
21 سالہ الخوزرین الروشیدن، جو الاحسا سے تعلق رکھتی ہیں اور کمپیوٹر سائنس کی ڈگری رکھتی ہیں، کا ماننا ہے کہ یہ قدم نہ صرف ان کے لیے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔
وہ کہتی ہیں، یہ صرف ایک عام تربیتی پروگرام نہیں ہے بلکہ ایک خواب کی تعبیر ہے۔
مجھے فخر ہے کہ میں سعودی وژن 2030 کے ایک ایسے اقدام کا حصہ ہوں جو خواتین کو ہر سطح پر بااختیار بنانے کی عملی کوشش کر رہا ہے۔
میں ہوا بازی کے شعبے میں مختلف کردار ادا کرنا چاہتی ہوں، چاہے وہ مینجمنٹ ہو یا تکنیکی مہارت کا حصول۔
یہ چیلنج میرے لیے مواقع کے نئے دروازے کھولے گا۔
ریاض ایئر کا یہ اقدام صرف ایک کمپنی کی پالیسی کا حصہ نہیں بلکہ ایک وسیع تر معاشرتی تبدیلی کا عکس ہے، جہاں خواتین کو روایتی حدود سے باہر نکلنے اور اپنی صلاحیتوں کو آزمانے کے مساوی مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔
ایئرلائن نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ صنفی مساوات کو فروغ دینے کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں اور خواتین کو بااختیار بنانے کی ہر کوشش نہ صرف انفرادی ترقی بلکہ ملکی خوشحالی میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
خواتین کے عالمی دن کے موقع پر، ریاض ایئر نے اپنی پالیسیوں اور عملی اقدامات کے ذریعے یہ واضح کر دیا ہے کہ سعودی خواتین کسی بھی میدان میں پیچھے نہیں رہیں گی۔
یہ پروگرام ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے جو مستقبل میں مزید خواتین کے لیے ہوا بازی سمیت دیگر تکنیکی شعبوں میں راہیں ہموار کرے گا۔