مکہ مکرمہ میں 6 اور 7 مارچ کو اسلامی مکاتب فکر اور مسالک کے درمیان پل بنانے کے موضوع پر بین الاقوامی کانفرنس کا دوسرا ایڈیشن منعقد ہوا۔
یہ کانفرنس خادم حرمین شریفین، شاہ سلمان کی سرپرستی میں مسلم ورلڈ لیگ (MWL) کے زیر اہتمام منعقد کی گئی، جس میں 90 سے زائد ممالک کے اسلامی اسکالرز، مفتیان کرام اور دانشوروں نے شرکت کی۔
کانفرنس میں اسلامی مکاتب فکر کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے دستاویز برائے اسلامی مکاتب فکر کے درمیان پل کے 28 نکات پر مشتمل معاہدے کی منظوری دی گئی۔
اس معاہدے کو ایک مشترکہ اسلامی ایکشن پلان کے طور پر تسلیم کیا گیا، جس کا مقصد امت مسلمہ میں بھائی چارے اور اتحاد کو فروغ دینا ہے۔
اس موقع پر اسلامی فکری اجماع کا انسائیکلوپیڈیا بھی متعارف کرایا گیا، جو اسلامی مکاتب فکر کے درمیان تعلقات کے لیے ایک رہنما اصول ہوگا۔
یہ انسائیکلوپیڈیا سعودی وزارت دفاع کے تحت کام کرنے والے مرکز برائے فکری تحفظ نے تیار کیا، جس میں 60 علماء نے حصہ لیا، جبکہ اس کا جائزہ سعودی سینئر علماء کونسل، اسلامی فقہ اکیڈمی اور مسلم ورلڈ لیگ کی سپریم کونسل نے لیا۔
کانفرنس کے دوران یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ اسلامی مکاتب فکر کے درمیان پل بنانے کی دستاویز کے تحت قائم کوآرڈینیٹنگ کمیٹی کا نام تبدیل کر کے اسلامی مکاتب فکر کے درمیان کوآرڈینیٹنگ کونسل رکھا جائے گا۔
اس کونسل کا مقصد اس معاہدے کے نکات کو عملی جامہ پہنانا اور مسلم معاشروں میں اس کے نفاذ کو یقینی بنانا ہوگا۔
کانفرنس کے مندوبین نے ایک سالانہ ایوارڈ کے اجرا کا بھی اعلان کیا، جو ان اداروں اور شخصیات کو دیا جائے گا جو اسلامی مکاتب فکر کے درمیان ہم آہنگی کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کریں گے۔
اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ امت مسلمہ کے مختلف مسالک اور نظریات کو باہمی احترام کے ساتھ قبول کیا جائے اور اختلافات کو اسلامی اصولوں اور ادب کے دائرے میں رکھا جائے، تاکہ تنازعات اور تفریق سے بچا جا سکے۔
کانفرنس نے بعض میڈیا پلیٹ فارمز پر غیر ضروری بحث مباحثے اور ایسے بیانات پر بھی تشویش کا اظہار کیا، جو جذبات بھڑکانے اور فرقہ واریت کو ہوا دینے کا سبب بنتے ہیں۔
کانفرنس کے شرکاء نے مسلم ورلڈ لیگ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس تنظیم نے اسلامی مکاتب فکر کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
اس کے تحت جو اقدامات کیے جا رہے ہیں، وہ وقتی نوعیت کے نہیں بلکہ مستقل بنیادوں پر امت مسلمہ کے اتحاد اور ہم آہنگی کے لیے ایک عملی لائحہ عمل ہیں۔
اجلاس میں فلسطینی عوام کی حمایت کا بھی اعادہ کیا گیا اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فلسطینیوں کے جائز حقوق کو تسلیم کرے اور ان کے لیے ایک آزاد ریاست کے قیام کو یقینی بنائے، جس کا دارالحکومت القدس ہو۔
اس مقصد کے لیے اسلامی علماء پر مشتمل وفود تشکیل دینے پر بھی زور دیا گیا، تاکہ دنیا بھر میں اس معاملے پر رائے عامہ ہموار کی جا سکے۔