مکہ مکرمہ میں گداگری کے خلاف جاری سیکیورٹی مہم کے دوران، مکہ ریجن پولیس نے جنرل ڈیپارٹمنٹ برائے کمیونٹی سیکیورٹی اور انسدادِ انسانی اسمگلنگ کے تعاون سے ایک یمنی مرد اور خاتون کو گرفتار کر لیا ہے، جو چھ معصوم بچوں کو زبردستی بھیک مانگنے پر مجبور کر رہے تھے۔
گرفتار شدگان پر انسدادِ انسانی اسمگلنگ قانون کی دفعات کی خلاف ورزی کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں، اور انہیں مزید قانونی کارروائی کے لیے پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق، یہ افراد اپنے ہی ہم وطن چھ کم عمر بچوں کو مختلف عوامی مقامات اور شاہراہوں پر گداگری کے لیے استعمال کر رہے تھے۔
ان بچوں کو سخت گرمی، دھوپ اور دیگر نامناسب حالات میں رہنے پر مجبور کیا جا رہا تھا تاکہ وہ لوگوں کی ہمدردی حاصل کرکے زیادہ سے زیادہ رقم جمع کر سکیں۔
سیکیورٹی فورسز نے موقع پر کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف ان افراد کو گرفتار کیا بلکہ بچوں کو ان کے چنگل سے آزاد کروا کر ان کی فلاح و بہبود کے لیے فوری اقدامات بھی کیے۔
سعودی عرب میں انسانی اسمگلنگ، بچوں کے استحصال اور جبری گداگری کے خاتمے کے لیے سخت قوانین موجود ہیں، اور اس نوعیت کی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔
اس کیس میں بھی متعلقہ حکام نے فوری مداخلت کرتے ہوئے نہ صرف مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا بلکہ بچوں کی دیکھ بھال اور تحفظ کے لیے بھی فوری طور پر ضروری انتظامات کیے۔
حکام نے اس واقعے کے بعد عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر وہ کہیں بھی گداگری میں ملوث بچوں یا مشکوک سرگرمیوں کا مشاہدہ کریں تو فوری طور پر متعلقہ حکام کو اطلاع دیں تاکہ ان معصوم بچوں کو ایسے ظالمانہ اور غیر انسانی حالات سے بچایا جا سکے۔
اس طرح کی مہمات کا مقصد مملکت میں سماجی استحکام اور انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے تاکہ کوئی بھی بچہ کسی کے مفادات کی بھینٹ نہ چڑھے اور انہیں ایک محفوظ اور بہتر زندگی فراہم کی جا سکے۔