سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے شام میں اسرائیلی قابض افواج کے فضائی حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
مملکت نے ان حملوں کو مشرق وسطیٰ کے امن و استحکام کے لیے شدید خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی یہ مسلسل جارحیت نہ صرف شام بلکہ پورے خطے کی سلامتی کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
سعودی عرب نے واضح کیا کہ اسرائیل کے یہ حملے عالمی قوانین، اقوام متحدہ کے چارٹر، اور بین الاقوامی معاہدوں کی سراسر خلاف ورزی ہیں، جو کسی طور قابل قبول نہیں ہو سکتے۔
سعودی عرب نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری کو اسرائیل کے ان حملوں کے خلاف سخت موقف اپنانا ہوگا تاکہ اس مسلسل جارحیت کو روکا جا سکے۔
مملکت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں اور اسرائیل کی ان کھلی خلاف ورزیوں پر سنجیدگی سے کارروائی کریں۔
سعودی وزارت خارجہ نے عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کریں اور ایسے مؤثر بین الاقوامی احتسابی نظام کو فعال کیا جائے جو اسرائیل کو ان حملوں پر جوابدہ بنا سکے۔
سعودی عرب نے اسرائیل کی ان مسلسل خلاف ورزیوں کو خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی دانستہ کوشش قرار دیا اور کہا کہ اسرائیل کی اس جارحانہ پالیسی سے خطے میں مزید کشیدگی اور تنازعات جنم لے سکتے ہیں۔
مملکت نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل کے ان حملوں کو نہ روکا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، جن کا اثر نہ صرف شام بلکہ پورے مشرق وسطیٰ پر پڑے گا۔
سعودی عرب نے اس موقع پر حکومتِ شام اور شامی عوام کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی اور حمایت کا اظہار کیا اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ شام کی خودمختاری، سلامتی، اور استحکام کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرے۔
مملکت نے واضح کیا کہ سعودی عرب ہر قسم کی جارحیت کے خلاف ہے اور کسی بھی ایسی کارروائی کی حمایت نہیں کرے گا جو کسی بھی ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچاتی ہو۔