سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے نہایت سخت الفاظ میں صومالیہ کے صدر حسن شیخ محمود کے قافلے پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی مذمت کی ہے، جس میں صدر تو محفوظ رہے، مگر قیمتی جانوں کا نقصان ہوا۔
مملکت نے اس گھناؤنے حملے کو صومالیہ کی سلامتی، خودمختاری اور استحکام کے خلاف ایک سنگین جرم قرار دیا ہے۔
سعودی عرب نے اپنی مکمل یکجہتی اور حمایت کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ صومالیہ کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور ہر قسم کی دہشت گردی، انتہا پسندی اور پرتشدد کارروائیوں کی سختی سے مخالفت کرتا ہے۔
یہ واقعہ کل صومالی دارالحکومت موغادیشو میں پیش آیا، جب صدر حسن شیخ محمود کا قافلہ ایک مصروف علاقے سے گزر رہا تھا۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق، دھماکہ صدارتی محل کے قریب ہوا اور اس کے نتیجے میں شدید جانی نقصان کی اطلاعات ہیں۔
صومالی سیکیورٹی حکام نے ابھی تک ہلاکتوں کی حتمی تعداد جاری نہیں کی، مگر ابتدائی رپورٹس کے مطابق کئی بے گناہ شہری اور سیکیورٹی اہلکار اس حملے میں جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں۔
القاعدہ سے منسلک دہشت گرد تنظیم الشباب نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کا ہدف صدر حسن شیخ محمود تھے، تاہم وہ اس حملے میں محفوظ رہے۔
حملے کے بعد صومالیہ کی سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور تحقیقات کا آغاز کر دیا۔
اس حملے کے باوجود، صدر حسن شیخ محمود نے اپنی معمول کی سرکاری سرگرمیاں جاری رکھیں اور جلد ہی عدن یبال ضلع پہنچے، جہاں صومالی حکومت الشباب کے خلاف ایک بڑی فوجی کارروائی میں مصروف ہے۔
صومالی فوج نے حالیہ مہینوں میں امریکی افواج اور افریقی یونین کے امن مشن کی مدد سے الشباب کے زیر قبضہ کئی علاقوں کو آزاد کرایا ہے، لیکن دہشت گرد تنظیم اب بھی ملک کے مختلف حصوں میں متحرک ہے اور وقتاً فوقتاً مہلک حملے کر رہی ہے۔
سعودی عرب نے عالمی برادری، اقوام متحدہ، اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صومالی حکومت کی حمایت کریں اور ایسے حملے کرنے والے عناصر کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں۔
سعودی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے، اور اس کے خاتمے کے لیے تمام ممالک کو مشترکہ کوششیں کرنی ہوں گی تاکہ دنیا بھر میں امن، استحکام، اور ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔
مملکت نے صومالی عوام کے ساتھ اپنی ہمدردی اور تعاون کا یقین دلاتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ایسے بزدلانہ حملے کسی بھی قوم کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے، بلکہ یہ دہشت گردوں کے خلاف مزید مضبوط کارروائیوں کا سبب بنیں گے۔