دمام، سعودی عرب اور دمشق، شام کے درمیان براہ راست فضائی سروس کا طویل انتظار ختم ہو گیا ہے، کیونکہ بدھ کی صبح ایک شامی ایئر کا طیارہ دمام کے شاہ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے دمشق انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے روانہ ہوا۔ یہ پیش رفت ان لاکھوں شامی باشندوں کے لیے باعث مسرت ہے جو برسوں سے ان پروازوں کی بحالی کے خواہشمند تھے۔
سعودی عرب میں مقیم شامی کمیونٹی کے لیے یہ اقدام ایک بڑی سہولت فراہم کرتا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 2024 تک سعودی عرب میں مقیم شامی باشندوں کی تعداد 25 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، اور ان میں سے ایک بڑی تعداد اب براہ راست پروازوں کے ذریعے اپنے وطن جا سکے گی۔
اسی طرح، سعودی شہریوں کے لیے بھی یہ ایک بہترین موقع ہے کہ وہ شام کو اپنی سیاحتی منزل کے طور پر منتخب کریں، خاص طور پر گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران۔
یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان فضائی روابط کو بحال کرنے کی ایک بڑی کوشش کا حصہ ہے۔
اس سے پہلے جولائی 2024 میں شامی ایئر نے ریاض کے شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور دمشق کے درمیان پروازیں بحال کی تھیں، اور پھر نومبر 2024 میں جدہ اور دمشق کے درمیان سروس کا آغاز کیا گیا تھا۔
مزید برآں، مئی 2024 میں پہلی بار شامی حجاج کرام کے لیے براہ راست حج پروازوں کا بھی آغاز کیا گیا، جس کے تحت دمشق سے جدہ تک حجاج کو لے جانے کا سلسلہ 12 سال کے تعطل کے بعد بحال ہوا۔
یہ فضائی رابطے سعودی عرب اور شام کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کا نتیجہ ہیں۔
اپریل 2023 میں دونوں ممالک نے قونصلر خدمات کی بحالی کا اعلان کیا تھا، جبکہ مئی 2023 میں 12 سال بعد مکمل سفارتی تعلقات بحال کر دیے گئے۔
اس پیش رفت کے تسلسل میں مئی 2024 میں سعودی عرب نے ڈاکٹر فیصل بن سعود المجفل کو شام میں اپنا سفیر مقرر کیا، جبکہ جنوری 2024 میں ڈاکٹر محمد سوسان نے ریاض میں شام کے سفیر کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔
یہ اقدامات نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہوں گے بلکہ عوام کے لیے سفری سہولتوں میں بھی نمایاں بہتری لائیں گے، جس سے خطے میں مزید استحکام اور ترقی کی راہ ہموار ہوگی۔