اسپین کے سفیر جارج سیرا سعودی عرب میں اپنی مدت مکمل کرنے کے بعد وطن واپسی کی تیاری کر رہے ہیں۔
اس موقع پر انہوں نے سعودی عرب میں گزارے اپنے وقت کے بارے میں تاثرات بیان کیے اور سعودی عرب اور اسپین کے تعلقات پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ایک خوبصورت ملک ہے جس کی اپنی منفرد شناخت ہے اور یہاں سماجی اور معاشی سطح پر بڑی تبدیلیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ یہ سب کچھ قریب سے دیکھنا ایک شاندار تجربہ رہا۔
جارج سیرا کو 21 اکتوبر 2021 کو سفیر مقرر کیا گیا تھا اور وہ اگلے ماہ سعودی عرب پہنچے۔
وہ پہلے بھی سعودی عرب کے بارے میں کچھ جانتے تھے کیونکہ انہوں نے اپنے پیشرو سفیروں سے یہاں کے بارے میں سنا تھا اور 2002 میں ایک بار سعودی عرب کا مختصر دورہ بھی کیا تھا۔ تاہم، اس بار یہاں رہ کر بہت سی یادگار لمحات کا تجربہ ہوا۔
انہوں نے اپنی سب سے یادگار یاد Empty Quarter کے سفر کو قرار دیا۔ وہ 12 افراد کے ایک گروپ کے ساتھ وہاں گئے تھے اور یہ سفر تین دن پر مشتمل تھا۔
ان کے بقول یہ ایک ناقابلِ یقین تجربہ تھا اور وہ خوش ہیں کہ انہیں یہ موقع ملا۔
العلاء کا قدیم شہر بھی ان کی یادوں میں نمایاں مقام رکھتا ہے جہاں وہ کئی بار گئے۔
جہاں تک دونوں ممالک کے تعلقات کا سوال ہے تو جارج سیرا نے کہا کہ سعودی عرب اور اسپین کے تعلقات بہترین سطح پر ہیں اور دونوں ممالک سیاسی طور پر مطمئن ہیں۔
دونوں جانب سے سرکاری اور وزارتی سطح پر ہونے والے تبادلہ خیال اور دوروں کی بدولت تجارتی تعلقات مستحکم ہیں اور ثقافتی روابط بھی مضبوط ہو رہے ہیں۔
تاہم، مزید پیشرفت کے لیے کام جاری ہے کیونکہ دونوں ممالک ہمیشہ تعلقات کو مزید بہتر بنانے کے خواہاں رہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل میں دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک اسٹریٹجک سطح تک لے جانے کے لیے ایک مضبوط فریم ورک پر کام ہو رہا ہے، جو مستقبل میں مزید قریبی تعلقات کی راہ ہموار کرے گا۔
اپنی مدتِ سفارت کے دوران، جارج سیرا نے مختلف شعبوں میں سعودی عرب اور اسپین کے درمیان تعلقات کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔
ان کے لیے کئی مواقع خاص اہمیت کے حامل رہے لیکن ایک لمحہ ایسا ہے جو انہیں ہمیشہ یاد رہے گا۔
اکتوبر 2023 میں، انہوں نے ایک مشہور ہسپانوی موسیقار کے ساتھ ایک یادگار محفل کا انعقاد کیا۔
یہ محفل اسپین کے سفارت خانے، سعودی وزارتِ ثقافت کی میوزک کمیشن، اور رائل کمیشن برائے ریاض سٹی کے تعاون سے منعقد ہوئی تھی۔
اس تقریب میں مشہور ہسپانوی بیگ پائپر جوزے ہیویا نے ایک سعودی موسیقار کے ساتھ پرفارم کیا، جو روایتی سعودی ساز بجاتے تھے۔
یہ کنسرٹ کلچرل پیلس میں ہوا اور 600 نشستوں پر مشتمل ہال مکمل طور پر بھرا ہوا تھا۔
جارج سیرا نے کہا کہ وہ اس لمحے کو کبھی نہیں بھولیں گے۔
انہوں نے اس دوران سعودی عرب میں ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کا بھی مشاہدہ کیا اور کہا کہ مملکت تیزی سے ایک بین الاقوامی سفارتی مرکز میں تبدیل ہو رہی ہے۔
سعودی عرب میں اپنی ذمہ داریوں سے فارغ ہونے کے بعد وہ 25 مارچ کو اسپین واپس جا رہے ہیں، جہاں وہ اسپین کی وزارتِ خارجہ کے بین الاقوامی قانون کے شعبے میں ایک نئی ذمہ داری سنبھالیں گے۔
ان کا نیا کردار خاص طور پر انسانی حقوق کے قانون سے متعلق ہوگا، جو ان کے لیے خاص دلچسپی کا باعث ہے۔
انہوں نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ وہ اس شعبے میں کام کرنے کا موقع حاصل کر رہے ہیں جس میں ان کی ذاتی دلچسپی ہے اور جسے وہ اپنی زندگی کا ایک اہم حصہ سمجھتے ہیں۔
اپنی رخصتی کے موقع پر انہوں نے سعودی عرب میں اسپین کے سفارت خانے کی ٹیم، بالخصوص اقتصادی اور ثقافتی امور کے مشیروں اور دیگر اہم افراد کا شکریہ ادا کیا۔
جنہوں نے سعودی عرب اور اسپین کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے میں ان کے ساتھ مل کر کام کیا۔
ان کی جگہ اسپین کے نئے سفیر کے طور پر خاویر کارباجوسا سانچیز تعینات ہوں گے، جو اس سے قبل قطر میں اسپین کے سفیر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔