یوکرین نے اعلان کیا ہے کہ وہ سعودی عرب میں ہونے والے اہم مذاکرات میں کم از کم جزوی جنگ بندی کے حصول کی کوشش کرے گا۔
اس اہم اجلاس میں امریکی حکام یوکرین اور روس، دونوں وفود کے ساتھ علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کریں گے۔
ایک یوکرینی ذرائع نے کہا، ہم اب بھی اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ جنگ بندی پر اتفاق کیا جائے، کم از کم وہی نکات جنہیں ہم نے اپنی تجاویز میں پیش کیا ہے۔
یہ مذاکرات ایک وسیع سفارتی عمل کا حصہ ہیں جو کئی مہینوں سے جاری ہے۔
امریکہ کی جانب سے یوکرین میں جزوی جنگ بندی کی تجویز دی گئی ہے، اور اس پر بات چیت کا سلسلہ پیر کے روز سعودی عرب میں دوبارہ شروع ہوگا۔
روسی اور یوکرینی حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ ان اہم مذاکرات میں شریک ہوں گے۔
یوکرینی وفد کی قیادت وزیر دفاع رستم اُمیرُوف کریں گے، جو کسی بھی ممکنہ جنگ بندی کے نفاذ سے متعلق تکنیکی امور پر بات چیت کی نگرانی کریں گے۔
ان مذاکرات سے پہلے، 11 مارچ کو جدہ میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا تھا، جس میں امریکی اور روسی اعلیٰ حکام شریک تھے۔
اس اجلاس میں سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان اور قومی سلامتی کے مشیر مسعد العیبان بھی موجود تھے۔
دوسری جانب، یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلینسکی نے تصدیق کی ہے کہ یوکرین اور امریکی حکام پیر کے روز سعودی عرب میں امن مذاکرات کریں گے۔
کریملن نے بھی اس بات کی توثیق کی ہے کہ اسی دن امریکہ اور روس کے درمیان بھی بات چیت ہوگی۔
جمعرات کو اوسلو میں ایک پریس کانفرنس کے دوران، زیلینسکی نے ان مذاکرات کے طریقہ کار پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے بتایا کہ پہلے امریکی حکام یوکرینی ماہرین سے ملاقات کریں گے، اور پھر علیحدہ طور پر روسی نمائندوں کے ساتھ بات چیت کریں گے۔
انہوں نے کہا، پہلے یوکرین اور امریکہ کے درمیان ملاقات ہوگی، اور اس کے بعد ہمارے امریکی ساتھیوں کے مطابق، ایک سفارتی عمل ہوگا جس میں امریکہ روس سے بات کرے گا۔
روس کی نمائندگی سابق سفارتکار گریگوری کاراسن کریں گے، جو اس وقت فیڈریشن کونسل کمیٹی برائے امور خارجہ کے چیئرمین ہیں، جبکہ ان کے ساتھ سیرگئی بیسیدا بھی ہوں گے، جو روس کی وفاقی سیکیورٹی سروس (FSB) کے ڈائریکٹر کے مشیر ہیں۔
ان مذاکرات میں ان کی موجودگی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ روس بھی سعودی ثالثی میں ہونے والے ان مذاکرات میں سنجیدگی سے شریک ہو رہا ہے۔
اس سے قبل، صدر زیلینسکی نے اپنے حالیہ دورہ سعودی عرب کے دوران جدہ میں سعودی ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی۔
ان مذاکرات میں، زیلینسکی نے سعودی عرب کی جانب سے روس-یوکرین تنازع کو حل کرنے کی کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے اس بات کو بھی سراہا کہ سعودی عرب نہ صرف اس بحران میں بلکہ مشرق وسطیٰ اور پوری دنیا میں امن کے فروغ میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
اپنی بات چیت کو تعمیری قرار دیتے ہوئے، زیلینسکی نے کہا، میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے یوکرین کے لیے مسلسل حمایت کا اظہار کیا۔